نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: حکومت اورعلامہ طاہر القادری کااسلام آباد آبروبچاوُ اعلامیہ

  1. #1
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    حکومت اورعلامہ طاہر القادری کااسلام آباد آبروبچاوُ اعلامیہ

    تاریخ: 19 جنوری 2013
    از طرف: سید انور محمود
    [size=xx-large][align=center]حکومت اورعلامہ طاہر القادری کااسلام آباد آبروبچاوُ اعلامیہ[/align][/size][align=justify]ایک طویل عرصےملک سے باہر رہنے کے بعد علامہ طاہر القادری پاکستان واپس آئے اور 23 دسمبر 2012 کو انہوں نے مینار پاکستان کے سائے میں جلسۂ عام کیا۔اس سے پہلے پاکستانی میڈیا پرایک بھرپور اشتہاری مہم اس جلسے کے سلسلے میں چلی اور پاکستانی میڈیا پر معتدد انٹرویو دیئے۔ جلسے کے لیے جو اشتہاری مہم چلائی گئی اس پر جس قدر پیسہ خرچ کیا گیا، اس کی مثال پاکستان کے ماضی کے کسی جلسے یا جلوس کی نہیں دی جاسکتی۔ علامہ طاہرالقادری بنیادی طور پر ایک اسکالر ہیں اور ایک کامیاب اسکالر بغیر تحقیق کے آگے نہیں بڑھتا۔ علامہ طاہرالقادری پاکستان میں پہلے بھی سیاست کرچکے ہیں مگر کوئی خاص کامیابی نہیں ملی لہذا اس مرتبہ وہ پاکستانی سیاست پر کافی تحقیق کے بعد ہی سیاست میں داخل ہوئے ہیں۔ علامہ صاحب نے اپنی تحقیق سے جان لیا کہ پاکستانی سیاست ایک کاروبار ہے اور دولت کے بغیر انکی سیاست نہیں چل سکتی ، دوسرے پاکستان کی موجودہ صورتحال میں فوج اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کاروبار حکومت سنبھال سکے ، آخری چیز جو انکے سامنے آئی کہ اس وقت پاکستان میں سب زیادہ نفرت امریکہ سے ہی کی جاتی ہے۔لہذا انہوں نے 23 دسمبر 2012 کو مینار پاکستان کے سائے میں جو جلسۂ عام کیا اس میں تین حلف اٹھاے۔ اپنے حلفوں میں انہوں نے فرمایا: "اس جلسے کے لیے ایک روپیہ تک کسی نے امداد نہیں دی بلکہ تمام اخراجات منہاج القرآن کے کارکنان اور عوام نے خود اپنی جیب سے کیے ہیں۔ میں کسی بیرونی طاقت کے کہنے پر پاکستان نہیں آیا، نہ ہی میں کوئی بیرونی ایجنڈا پاکستان لانا چاہتاہوں۔ اس اجتماع کی بنیاد ہرگز ہرگز آئین پاکستان کے خلاف نہیں اور نہ یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔ اس عوامی جلسے کا مقصد کسی فوجی یا ملٹری ٹیک اوور کی طرف اشارہ نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو میں خود ملک کے تمام جمہوری اور سیاسی قائدین کے ساتھ فوجی ٹیک اوور کو روکنے والوں میں سب سے آگے ہوں گا"۔ یہ ان کی تحقیق کا ہی نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنی سیاسی جماعت "پاکستان عوامی تحریک" کو پس پشت ڈال کر ادارہ منہاج القرآن کے زریعے اپنی سیاست شروع کی۔ علامہ طاہرالقادری جانتے ہیں کہ پاکستان میں عوامی تحریک کے نام سے شاید ہی کوئی واقف ہو مگر ادارہ منہاج القرآن کی عام پہچان ہے۔ اس کے ہزاروں کارکن ہیں، ایک منظم انتظامیہ ہے۔پھر اخراجات کا حساب دینا بھی مشکل نہیں، اور سب سے زیادہ منہاج القرآن کے نام پر اکثریت کو اور خاصکر خواتین کی اکثریت کو جلسے اور دھرنے میں لانا بہت آسان ہوگا۔ جہاں تک جلسے میں شامل لوگوں کی تعداد کا تعلق ہے اسے ایک بڑا جلسہ قبول کرنے میں کوئی دو رائے نہیں جس میں خواتین کی ایک اکثریت بھی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے اوپر پورا پورا عمل ہونا چاہیے اور اس کام میں اگر نوے دن سے زیادہ بھی لگ جائیں تو آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت بنانے کے لیے دو پارٹی کا مک مکا نہیں چلے گا اس لیے مطالبہ کیا حکومت کے اندر اور باہر موجود سیاسی قوتوں کی نمائندگی کے علاوہ عدلیہ اور فوج کی بھی نمائندگی ہو۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اگر 10 جنوری تک ان کے مطالبات پورے کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو وہ 14 جنوری کو اسلام آباد میں عوامی پارلیمنٹ لگائیں گے۔ انھوں نے اپنی تنقید کا نشانہ زیادہ تر مرکز اور پنجاب میں برسراقتدار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کوبنایا۔ اس جلسے میں ایم کیو ایم کے وفد نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ۔ علامہ طاہرالقادری کے حلفوں کا ایک ایک لفظ اور انکے مطالبات اور انتظامات اس بات کی غمازی کررہے تھے کہ وہ اپنا ہوم ورک بہت اچھی طرح کرکے آئے ہیں۔

    تیرہ جنوری تک پورئے ملک میں اسلام آباد دھرنے سے متعلق گرماگرم سیاست چلتی رہی۔ علامہ طاہر القادری کی طرف سے نگران حکومت کی تشکیل میں فوج اور عدلیہ سے بھی مشاورت ضروری کی تجویز اور طاہر القادری کے جلسے اور ایجنڈے نے گویا دارالحکومت کے اختیار و اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال برپا کردیا ہے۔ وزیراعظم اورصدرکی ملاقات میں علامہ طاہر القادری کا دھماکہ خیز سیاسی بیان بھی موضوع گفتگو بنا۔یکم جنوری کو علامہ طاہر القادری نے ایم کیو ایم کےمرکز نائن زیرہ پر ایک جلسے سے خطاب کیا اور ایم کیو ایم کے ورکروں اور عام لوگوں کو دھرنے میں شرکت کی دعوت دی، اسی جلسے سے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی خطاب کیا اوردھرنے میں اپنی بھرپور شرکت کا اعلان کیا مگر گیارہ جنوری کو ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار نے چودہ جنوری کے لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔ اس درمیان میں حکومت اور علامہ طاہر القادری میں مذاکرات بھی ہوتے رہے۔ علامہ طاہر القادری نے تیرہ جنوری کو لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور روانگی سے قبل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتخابی اصلاحات کے لانگ مارچ کو ”جمہو ریت مارچ“ کانام دیتے ہوئے کہا جب تک ملک سے یزیدی قوتوں کے اقتدار کا خاتمہ نہیں ہو گا، چاہے100دن بھی لگ جائیں ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے، ہمارا لانگ مارچ ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی، مہنگائی،بیروز گاری، دہشت گردی، کرپشن اور کرپٹ حکمرانوں کے خاتمے کا لانگ مارچ ہے، پنجاب اور وفاقی حکو مت نے ہمارے لانگ مارچ کے قافلوں کو روک کر یزید کی تاریخ کو بھلا دیا ہے،”تخت لاہور والو! اب تم بچو گے نہ تمہارا اقتدار“ ہمارا راستہ روکنے والوں کو شرم سے ڈوب مر نا چاہیے۔ انہوں نے اپنے مکمل مطالبات اسلام آباد پہنچ کر بتانے کا اعلان کیا۔ اسلام آباد کے ٹھنڈے ترین موسم میں جب علامہ طاہر القادری پہنچے تو ان کے ساتھ ہزاروں نوجوان، بچے بوڑھوں کے علاوہ ہزاروں خواتین، بچیاں اور شیر خوار بچے بھی شامل تھے۔ علامہ طاہر القادری نے سب سے پہلے پوری حکومتی ارکان بشمول صدر سب کو نوکری سے نکال دیا اور فرمایا یہ سب سابق ہوگے ہیں۔

    علامہ طاہر القادری نے دھرنے کے دوسرے دن جو تقریر کی اس میں کہا کہ یزیدی قوتوں کے خاتمے تک دھرنا جاری رہے گا۔ دھرنے کے تیسرے دن سخت ترین سردی اور بارش کے دوران علامہ نے اپنے چار مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 62، 63 اور 218 کے تحت انتخابات ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن تحلیل کرکے اس کی تشکیل نو کی جائے ،نگراں حکومت دو جماعتوں کے مک مکا سے نہیں ہونی چاہیے ، قومی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی جائیں۔ ساتھ ہی حکومت کو رات تک کا ٹایم دےدیا۔ اسی شام لاہور میں مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی دعوت پر ملک کی دس سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا اور انہوں نے ان تمام مطالبات کو رد کرتے ہوئے حکمومت سے مطالبہ کیا کہ اس مسلہ کو جلد از جلد ختم کیا جائے۔ رات کو وزیر داخلہ کے آپریشن کی دھمکی کےبعد صورتحال خراب ہونے سے پہلے ہی صدر آصف زرداری کی یہ یقین دھانی آگی کہ کوئی آپریشن نہیں ہوگا۔ دھرنے کے شرکا سے جب یہ سوال کیا جاتا کہ وہ کیوں دھرنا دے رہے ہیں تو وہ بنیادی ضروریات پر بات کرتے، مثلا بجلی، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری ۔ اگر آپ غور کریں تو علامہ طاہر القادری کے چار مطالبات میں سے ایک بھی مطالبہ کا تعلق بنیادی ضروریات پر نہ تھا۔ دوسری طرف لاہور کے جلسے اور اس کےبعد کیےجانے والے نگراں حکومت کےمطالبے میں سے فوج اور عدلیہ کا شامل ہونا ایسے غائب ہوگیا جیسے کبھی کیا ہی نہیں گیا ہو۔ اُس رات پورے پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ ہوتا رہا کہ کم از کم بچوں اور خواتین کو واپس بھیج دیا جائے کیونکہ بارش کے بعد انکے بستر تک گیلے تھے، خاصکر معصوم بچے بیمار ہونا شروع ہوگے تھے مگر قران پر ہاتھ اٹھاکر وعدہ کرنے والے یہ بچے اور خواتین ہی تو علامہ کا اصل ھتیار تھے، علامہ کو معلوم تھا کہ ان بچوں اور خواتین کی موجودگی میں حکومت ان کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی اور حکومت کی بھی یہ ہی مجبوری تھی۔ دھرنے کے چوتھے دن صبح ہی سے یہ خبریں آنی شروع ہوگیں کہ اسلام آباد کے ہسپتال دھرنے کےبیمار شرکا اور خاصکر بچوں سے بھرئے ہوے ہیں، بارش اور صفائی کے فقدان کی وجہ سے مزید بیماریاں ہوسکتیں تھی۔ ایک تو یہ بیماریاں تھیں اور اب تک علامہ کو عدیلہ یا فوج کی طرف سےلاتعلقی نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا تھا کہ اپنی آبرو کیسے بچائی جائے۔دوسری طرف حکومت کے لیے دھرنے کا پرامن خاتمہ اوراسلام آباد کو واپس نارمل صورتحال پر لانا ضروری تھا اور اپنی آبرو بھی بچانی تھی۔ آبرو بچانے کی خواہش دونو ں طرف تھی لہذا کسی بیک چینل کا استمال ہوا یا دھرنے کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے مجبور کیا کہ علامہ طاہر القادری کے تین بجے بلانے پر حکومت کی طرف سے فورا لبیک کہا گیا اور چار بجے دس رکنی وفد علامہ سے مذکرات شروع کرچکا تھا۔ اگلے پانچ گھنٹے قانون کے پروفیسر علامہ طاہر القادری وزیر قانون فاروق نائیک سے قانون سیکھتے رہے اور پھر ایک معاہدہ تیار ہوا جس کی منظوری علامہ کے نوکری سے نکالے ہوئے صدر نے دی اور بقول علامہ سابق وزیراعظم نے دستخط کیے اس کے علاوہ بقول علامہ دس رکنی وفد میں موجود سابق وزیروں اور باقیوں نے دستخط کیے اس کے بعد علامہ نے دستخط کیے۔ اس معاہدہ کو "اسلام آباد لانگ مارچ اعلامیہ" نام دیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت قومی اسمبلی 16مارچ کے مقررہ وقت سے پہلے تحلیل کر دی جائے گی اور اس کے بعد 90روز کے اندر انتخابات کرا دیئے جائیں گے۔الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی اہلیت پر آئین کے آرٹیکل 62اور63 کا سختی سے اطلاق کیا جائے گا اس مقصد کے لئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی مدت بڑھا کر ایک ماہ کر دی گئی ہے۔ اگر اس معاہدہ کو "اسلام آباد آبرو بچاوُاعلامیہ" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہے، پہلے اسمبلیاں 16 مارچ کو تحلیل ہونی تھی اب ایک دن پہلے ہونگی، الیکشن کمیشن اپنی جگہ موجود ہے، نگراں حکومت اب بھی بغیر اپوزیشن کی مرضی کے نہیں بن سکتی ، نگراں حکومت 90 دن کےلیے ہوگی اور امیدواروں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کی مدت بڑھا کر ایک ماہ کر دی گئی ہے، کرپٹ سسٹم میں یہ ایک سال بھی کردی جاے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    علامہ طاہر القادری جیسے آئے تھے ویسے ہی واپس گئے مگر اپنی تحقیق کی بنیاد وہ ایک سیاسی لیڈر ضرور بن گے ہیں۔ بقول چوہدری نثار وہ حکومت کے ایک نئے اتحادی ضرور بن گے ہیں لہذا شاید علامہ کا اصل مقصد پورا ہوگیا ہے۔ معاہدہ کی بنیاد پر وہ بڑے فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نگراں سیٹ اپ کی تشکیل میں اب حکومت ان کے ساتھ مشاورت کی پابند ہے مگرصدر آصف زرداری معزول ججوں کی بحالی سے متعلق بھوربن اور اسلام آباد کے معاہدوں کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ وعدے یا معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے جن میں ردوبدل نہیں ہوسکتا۔ لانگ مارچ اور دھرنے میں شرکت کرنے والے ہزاروں افراد کو کیا ملا ؟ اسلام آباد کے سرد ترین موسم اور بارش میں دن رات سڑکوں پر بیٹھنے کی وجہ سے معصوم بچوں کے علاوہ دوسروں کو بھی کئی ایک موسمی بیماریاں ملیں ۔ پرامن دھرنے کے شرکا تھکن اترجانے کے بعد یہ ضرور سوچیں کہ انہوں نے کیا کھویا کیا پایا ،یا صرف عقیدت مندی، ہمدردی اور ملازمت کا فرض پورا کیا۔
    [/align]

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے سید انور محمود کا شکریہ ادا کیا:

    نگار (06-19-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    حکومت اورعلامہ طاہر القادری کااسلام آباد آبروبچاوُ اعلامیہ

    زبردست تجزیہ پیش کرنے پر آپ کا شکریہ ،
    حقیقت یہی دکھائی دیتی ہے ،
    [align=center][/align]

  4. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    حکومت اورعلامہ طاہر القادری کااسلام آباد آبروبچاوُ اعلامیہ

    [align=center][/align]

  5. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Feb 2012
    پيغامات
    124
    شکریہ
    0
    25 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    حکومت اورعلامہ طاہر القادری کااسلام آباد آبروبچاوُ اعلامیہ

    [size=large]طاہرالقادری قادری لانگ مارچ - اور بے بنیاد الزامات

    محترم قارئين
    السلام عليکم

    بدقسمتی سے پاکستان ميں ہر اہم سياسی اور مذہبی ليڈر پر ان کے مخالفين اور ناقدين کی جانب سے کبھی نا کبھی "امريکی کٹھ پتلی" يا امريکی ايجنٹ ہونے کے الزامات لگتے رہے ہيں۔ اس تناظر ميں تو علامہ طاہر القادری پر بھی اسی نوعيت کے بے بنياد اور غلط الزامات کا لگنا کوئ اچنبے کی بات نہيں ہے۔ ليکن حقيقت يہ ہے کہ طاہر القادری نا تو امريکی شہری ہيں اور نا ہی امريکی حکومت کے کسی بھی ادارے سے ان کا کوئ تعلق ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے ک جانب سے جاری کردہ مراسلے میں واضح کر ديا گيا تھا کہ ان کے نظريات يا ان کی تحريک کو ہماری حکومت کی جانب سے کو‏ئ تعاون يا سپورٹ حاصل نہيں ہے۔

    کسی کو بھی غير ملکی ايجنٹ قرار دے کر اس کی کردار کشی کرنا ايک پرانا وطيرہ ہے۔ حالانکہ آج کے جديد دور ميں مواصلات کے تيز رفتار نظام، معلومات تک آسان رسائ اور سوشل ميڈيا کے ذريعے شعور اور آگاہی کی روشنی ميں يہ سوچنا بھی محال ہے کہ کوئ غير ملکی حکومت سياسی يا مذہبی نظريہ اور سوچ ازسرنو "تخليق" کر سکے يا بغير عوامی پذيرائ اور تعاون کے کوئ تحريک شروع کروا سکے۔

    امريکی حکومت کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ وہ پاکستانيوں کو کسی ايک شخص يا سياسی جماعت کی حمايت کے ليے زبردستی قائل کر سکے۔ جو اس حقيقت کا انکاری ہے وہ درحقيت پاکستان ميں عوام کے سياسی شعور اور فيصلہ کرنے کی صلاحيت کو نظرانداز کر رہا ہے۔ حتمی تجزيے ميں يہ فيصلہ اور اختيار امريکيوں کے نہيں بلکہ پاکستانيوں کے ہاتھ ميں ہے کہ قوم کی رہبری اور قيادت کا اختيار کسے سونپا جاۓ۔

    تاشفين - ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم، شعبہ امریکی وزارت خارجہ

    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
    [/size]

  6. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    حکومت اورعلامہ طاہر القادری کااسلام آباد آبروبچاوُ اعلامیہ

    [align=center][/align]

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University