مکہ مکرمہ میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بےحد مخالفت کی وہ
اثرورسوخ کے مالک ہونے کے علاوہ بہت مالدار بھی تھے۔ان میں سھیل بن عمرو
کا نام بہت نمایان ہے۔یہ قریشی تھا،بے حد ذہین وفطین ہونے کے ساتھ ساتھ
شاعر بھی تھا۔بڑا زبردست ،دلبر اور اشراف مکہ میں سے تھا۔اللہ کے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بڑی جوشیلی تقاریر کیا کرتاتھا۔سھیل کے والد
کا نام عمرو اور دادا کا نام عبد شمس تھا۔ لؤی بن غالب بن فہر پر جاکر ان
کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے ۔سھیل کی والدہ کا نام
حبی بنت قیس خزاعیہ تھا۔ابویزید کنیت تھی ۔واضح رہے کہ بنوخزاعہ کے ساتھ
قریش کی آپس میں رشتہ داریاں چلی آرہی تھیں۔
بدر کے روز یہ قریش کی طرف سے میدان جنگ میں موجود تھا ،میدان بدر میں
مشرکین مکہ کو شکست فاش ہوئی تو ان کے نہ صرف ستر بڑے بڑے سردار قتل ہوئے
بلکہ ستر کی تعداد میں بڑے نمایاں افراد قیدی بھی بنالیے گئے ۔ان قیدیون
میں سھیل بن عمرو بھی شامل تھا۔اسے گرفتار کرنے والے صحابی مالک بن دخشم
رضی اللہ عنہ تھے ۔ وہ ان کو گرفتار کرکے مدینہ کی طرف چلےراستے میں وہ ان
سے کہنے لگا: مجھے ضروری حاجت سے فارغ ہوناہے ، اس لیے تھوڑی دیر کے لئے
مجھے موقع دیں ۔انہوں نے اسے جانے دیا ۔ ذرا آگے جاکر کہنے لگا: میں نہایت
حیادار آدمی ہوں ذرامجھ سے دور ہوجاؤ۔مالک نے اعتبار کیا اور اس سے ذرا
فاصلے پر چلے گئے ۔سھیل اس دوران فرار ہونے کا پروگرام بناچکا تھا ، اس لئے
جیسے ہی مالک رضی اللہ عنہ ان سے دور ہوئے اس نے موقع غنمت جانا اور وہاں
سے بھاگ نکلا۔ ذرا فاصلے پر جاکر نشیبی جگہ پر کھجور کے پتوں سے اپنے آپ کو
چھپالیا ،ادھر جب سھیل کے آنے میں تاخیرہوئی تو مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ
نے شور مچادیا کہ ان کا قیدی بھاگ گیاہے ۔چنانچہ قیدی کی تلاش شروع ہوگئی
،اعلان کرادیا گیا کہ جس کو سھیل ملے وہ اسے قتل کردے ۔تھوڑی سی جدوجہد کے
بعد سھیل کو تلاش کرلیاگیا اور رسیوں سے جکڑ کر مدینہ لایاگیا ۔
اوپر ذکرکیاگیا ہے کہ سہیل بن عمرو بڑا زبان آور اور شعلہ بیان خطیب تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ سھیل کے اگلے دودانت نکلوادیجئے ،اس کی زبان لیٹ جایاکرے گی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تقریر نہیں کرسکے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ تجویز مسترد کردی اور فرمایا: میں مثلہ کی اجازت نہیں دے سکتا ۔مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالٰٰی اس کے بدلے میں خود میرا مثلہ نہ کردے ۔ جب سیدنا عمررضی اللہ عنہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا: اے عمر! شاید کل یہی سھیل ایسا موقف اختیار کرے کہ جس سے تمہیں خوشی حاصل ہو۔
سھیل جب مدینہ میں قیدی کی حیثت سے داخل ہوا تو ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی نگاہ اس پر پڑی ۔یہ ان کے رشتہ دار تھے ، سیدہ کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا تم نے عورتوں کی طرح مشکیں کسوالیں لیکن یہ نہ ہوسکا کہ لڑکر مرہی جاتا۔
سیرت ابن ہشام کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ کے یہ جملے سنے تو فرمایا: سودہ میرے مقابلے میں اشتعال پھیلارہی ہو؟ یہ سن کر سیدہ سودہ دم بخود ہوگئیں ، فورا معذرت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ جملے بے اختیار زبان سے نکل گئے ۔
مکرز بن حفص نے سھیل کی رہائی کی کوشش کی ، مگر زرفدیہ پاس نہ تھا۔چنانچہ مکرز نے خود اپنی ضمانت پیش کردی کہ میرے پاوں میں تسمہ ڈال دیا جائے اور سھیل کو رہا کرکے مہلت دی جائے کہ وہ زر فدیہ فراہم کرکے لے آئے ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مکرز کی یہ ضمانت قبول فرمالی اور سہیل بن عمرو کو رہا کردیا گیا کہ وہ زر فدیہ کا بندوبست کرکے آجائے۔ سہیل بن عمروغزوہ احد میں ایک بار پھر قریش کے ہمراہ میدان جنگ میں موجود تھا۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سخت زخمی ہوئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو ، صفوان بن امیہ ، حارث بن ہشام کا نام لے کر ان پر بدعا کی مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ، ارشاد ربانی ہوا: اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو اس بات میں کچھ اختیار نہیں ، اللہ چاہے توانہیں معاف کردے چاہے توسزادے ۔ (آل عمران 128)
اور پھر مشیت ایزدی کو ان کی ہدایت منظورتھی ،سہیل بن عمرو بالآخر مسلمان ہوجاتے ہیں ۔
غزوہ خندق میں بھی سہیل بن عمرو اسلام کی شمع بجھانے کے لئے آیا۔ وہ قریش کے لشکر میں شامل تھا ، مگر ان کی ناپاک سازشیں ناکام ہوتی رہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایاتھا۔ اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے وہ ہم پر چڑھائی نہ کرسکیں گے ، اب ہمارا لشکر ان کی طرف جائےگا۔
صلح حدیبیہ ذوالقعدہ 6ہجری میں ہوئی ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو ایک روایت کے مطابق پندرہ سو صحابہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کا رخ کیا ۔ آپ نے میان کے اندر تلواروں کے سوا کسی قسم کا ہتھیار نہیں لیا کیونکہ آپ کا مقصد جنگ کرنا نہیں تھا قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے کو روکا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر پڑاو ڈالا ، قریشی کی طرف سے مختلف ایلچی بجھوائے گئے ، مذاکرات ہوتے رہے مگر بات نہ بنی ۔ ادھرصحابہ کرام نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، جسے بیعت رضوان کا نام دیاگیا، قریش نے اب جس شخص کو مذاکرات کے لئے روانہ کیا وہ سہیل بن عمرو تھا۔
پہلے عرض کرچکا ہوں کہ یہ شخص بڑا مدبر اور معاملہ فہم تھا ، اس کے باوجود کفر پر اڑا ہوا تھا، ہم تھوڑی کے دیر کے حدیبیہ کے میدان میں چلتے ہیں ، یہ جگہ ان دنوں حدیبیہ شمیسی کہلاتی ہے ، مکہ مکرمہ سے پرانے جدہ روڈ پر اٹھارہ یا بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ مکہ سے سہیل بن عمرو مذاکرات کے لئے چلتا ہے تواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی آمد کی اطلاع مل جاتی ہے ۔ فرمایا: تمہارا کام سہل کردیا گیا ہے ، اس شخص کو بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ قریش صلح چاہتے ہیں ۔
سہیل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لمبے مذاکرات کرتا ہے ۔صلح کی شرائط پر زبانی معاملات طے ہو تے ہیں اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ ان شرائط کو قلمبند کیا جائے ، معاہدہ لکھنے کے لئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایاجاتا ہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں : علی !لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ “ سہیل فورا بولا : ہم رحمان کو نہیں مانتے، اس کی بجائے لکھو، باسمک اللھم ، چنانچہ انہوں نے یہی لکھ دیا ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی ! لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورسہیل بن عمروکے درمیان طے پایا اور مصالحت ہوئی ، سہیل ایک مرتبہ پھر بولا اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہین تو پھر ہم نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکتے اورنہ جنگ کرتے ،لہذا آپ محمد بن عبداللہ لکھوایئے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہےہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں خواہ تم مجھے جھٹلاؤ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ محمد بن عبداللہ لکھیں اورلفظ رسول اللہ مٹادیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں کیسے گوارہ اپنے ہاتھوںسے لکھے ہوئے رسول اللہ کے الفاظ مٹادوں ۔
مگر امن کے پیامبر ، نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے اس لفظ کو مٹادیا اور پھراس کے بعد صلح نامہ تحریر کیا جاتا ہے ۔ صلح نامے کی اہم دفعات یہ تھیں: دس سال تک فریقین لڑائی نہیں کریں گے ، مسلمان اس سال واپس جائیں گے اور اگلے سال آئیں گے ، جو قبیلہ اور خاندان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہونا چاہے اسے اجازت ہے۔
لیکن اہم دفعہ یہ تھی کہ قریش کا جو آدمی اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کردیں گے ۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص پناہ لینے کے لئے بھاگ کر قریش کے پاس جائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔
قارئین کرام ! ابھی یہ معاملہ لکھا جارہاتھا ، اس پر ابھی دستخط بھی نہیں ہوئے تھے کہ ابوجندل ، جو سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے ،اپنے بیڑیاں گھسیٹے ہوئے مکہ مکرمہ سے بھاگ کر حدیبیہ پہنچ جاتے ہیں ، یہ مسلمان ہوچکے تھے اور قریش نے ان کو گرفتار کررکھا تھا ، یہ کسی نہ کسی طرح وہاں سے بھاگ کر آئے تھے اب وہ مسلمانوں کے درمیان تھے ، سہیل نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو پکار اٹھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ پہلا شخص ہے جو معاہدے کے مطابق واپس ہونا چاہئے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ، ابھی تو معاہدہ لکھا جارہا ہے ۔ ابھی تو اس پر دستخط بھی نہیں ہوئے اورمعاہدے پر عمل درآمد تولکھے جانے اوراس پر دستخط ہونے کے بعد ہوتا ہے ۔ سہیل اپنی بات پر اڑ گیا ۔کہنے لگا :اگر ابوجندل کو واپس نہ کیا گیا تو میں صلح کے معاہدے پر دستخط نہیں کروں گا ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہرحالت میں صلح کے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے ۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہیل سے فرمارہے ہیں : اچھا ایسا ہے تو پھر میری خاطر اسے چھوڑ دو، عام حالتوں میں جب کوئی بڑی شخصیت اس قسم کا سوال کرتی ہے تو اس کا احترام کیا جاتا ہے مگر سہیل نے انکار کردیا ۔ سہیل بیڑیوںسے جکڑتے ہوئے اپنے بیٹے ابوجند ل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اوراس کے چہرے پر زور دار تھپڑ مارتا ہے ، کرتےکا گلا پکڑکر اپنی طرف زور سے گھسیٹا ہے ۔تمام مسلمانوں کے سامنے ایک موحد کی یہ توہین ؟ ابو جندل نے زور زور سے شور مچا کر مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا : مسلمانو! کیا میں مشرکین کی طرف واپس کیا جاوں گا؟ مشرکین مجھے میرے دین کے معاملے میں فتنے میں ڈال دیں گے ۔ مسلمان اپنے قائد اعلی کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابو جندل کو صبر کی تلقین کررہے ہیں ۔ فکر نہ کرو ، بہت جلد اللہ تعالٰی تمہارے اور تمہارے جیسے دیگر مسلمانوں کے لئے کشادگی اور پناہ کی جگہ بنائے گا۔ تم اسے باعث ثواب سمجھو ، ہم نے قریش سے صلح کرلی ہے ، اس لئے بدعہدی نہیں کرسکتے ۔
ابو جندل کے پاس اچانک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پہنچ جاتے ہیں ، ان کے پاس تلوار ہے وہ اس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور اسے تسلی دے رہے ہیں کہ صبر کرو یہ مشرک لوگ ہیں ، ان کا خون کتے کا ہے ، وہ اپنی تلوار کا دستہ ابوجندل کے قریب کرتے ہیں ، ان کا خیال تھا کہ ابوجندل تلوار کو چھین کر اپنے باپ کا کام تمام کردے مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوجند ل نے اپنے باپ کا قتل نہیں کیا ، اس نے اس بارے میں بخل سے کام لیا ۔ مسلمان مضطرب ہیں ، ان کی آنکھوں میں آنسو ہیں مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ابو جند ل کو سہیل کے حوالے کردیتے ہیں ۔
قارئین کرام ! میںنے کتنی ہی مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم کے بارے میں سوچا ہے کہ وہ واقعی خلق عظیم اور بے شمار صفات کے مالک تھے ۔ آپ نے اپنے حسن تعامل سے دشمن کا دل جیتا ، اس کو قریب کیا ، سہیل بن عمرو کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دور اندیشی اور پیش گوئی ہم آگے چل کر ملاحظہ کریں گے ۔
ابو جندل کو دوبارہ گرفتار کرکے مکہ میں قید کردیا گیا ۔صلح حدیبیہ کی شرائط کو بظاہر دیکھا جائے تو اسے سہیل کی کامیاب ڈپلومیسی سمجھا جائے گا۔ قریش اس پر بڑے خوش تھے ، مسلمان معاہدے کے مطابق عمرہ کیے بغیر واپس چلے گئے مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجندل کو جو الفاط کہے تھے وہ پورے ہوتے ہیں ۔ اللہ تمہارے جیسے کمزور مسلمانوں کے لئے کشادگی اور پناہ کی جگہ بنائے گا۔ “قرآن کریم نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین قرار دیا، مسلمان قیدیوں کے لئے اللہ تعالی نے ایسی صورت پید اکردی کہ وہ ابوبصیر کی قیادت میں ینبع البحر کے علاقے میں جمع ہوجاتے ہیں ۔ ابوجند ل بھی قید سے کسی طرح نکل کر ان کے پاس پہنچ گئے اور قریش کے تجارتی قافلوں پر حملے شروع کردیے ان کے قافلے غیر محفوظ ہوگئے ، جس کے بعد انہوںنے خود ہی اس شرط کو ختم کرنے کی درخواست کردی ۔
سہیل بن عمرو کی ذہانت ، فصاحت اوربلاغت فتح مکہ کے موقع پر ظاہر ہوتی ہے ، فتح مکہ 8 ہجری میں ہوتی ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قیاد ت میں مسلمانوں کا لشکر مکہ میں داخل ہوا تواسلامی لشکر کا مقابلہ کرنے والوں میں صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابی جہل جیسے لوگ شامل تھے ، ان کا مقابلہ کرنے والے سیدنا خالد بن ولید تھے جو زمانہ جاہلیت میں ان کے جگری یار اور ساتھی تھے ، اورپھر یہ اس طرح بھاگے کہ خندمہ کا علاقہ آنآفانآ ہوگیا ۔
انسانی تاریخ میں وہ دن بڑی اہمیت کا حامل ہے جب بیت اللہ کے صحن میں قریش مجرم بیھٹے ہیں ، ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے ، بتوں کو توڑاہے ، کعبۃ اللہ کے دروازے کھولے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی معیت میں کعبہ شریف میں داخل ہوتے ہیں ، آپ نے نماز ادا کی ، بیت اللہ کے اندرونی حصے کا چکر لگایا ، تمام گوشوں میں تکبیروتوحید کے کلمات کہے اور پھر دروازہ کھول دیا ۔ سامنے قریش کے اکابر مجرمین کی صفیں نظرآرہی ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے دروازے کے دونوں بازو تھامے قریش سے خطاب کررہے ہیں ، پالیسی بیان دیا جارہا ہے اور پھر قریش سے پوچھا : تمہار کیا خیال ہے میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں ۔
تو اس وقت یہی خطیب قریش سہیل بن عمرو کھڑے ہوتے ہیں اورنہایت خوبصورت انداز میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عفوودرگزر کی درخواست کرتے ہیں ، کہہ رہے ہیں ہم آپ سے بھلائی اور خیر کی توقع رکھتے ہیں ، اس کا سبب یہ ہے کہ کریم ابن کریم آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریف ہیں اور شریف بھائی کے چشم وچراغ ہیں ۔یہ ابوجندل کا والد ہے جو آج قریش کا وکیل صفائی بنا ہوا اعلی عدالت سے معافی کا طلب گار ہے ۔
قارئین کرام ! پھر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی معافی کا اعلان ہوتا ہے : جو ہونا تھا وہ ہوچکا ، جاؤ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں ، تم سب آزاد ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عام معافی کے نتیجے میں قریش کی اکثریت اسلام قبول کرتی ہے جن میں سہیل بن عمرو بھی شامل ہیں (رضی اللہ عنہ )
اسلام قبول کرنے بعد اللہ تعالٰی کے ساتھ تعلق بہت گہرا ہوجاتا ہے ، نماز ، روزہ ، صدقہ وخیرات میں اکثر وقت گزارتے ، اللہ کے خوف اور ڈر سے بے حد روتے تھے ، غزوہ حنین میں مجاہدین کی صف میں شامل ہوکر کفار کے ساتھ لڑتے ہیں اور غازی بن کر لوٹتے ہیں ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے سو اونٹ سہیل بن عمرو عطاء فرمائے ۔
قارئین کرام ! ذرا اس منظر کو دیکھیں کہ وہ کیاں سہیل بن عمرو جو حدیبیہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک کے ساتھ رسول اللہ کا نام لکھنے سےانکاری تھا اور کہاں وہ وقت کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منٰی میں قربانی کررہے ہیں ، اس روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی تھی ۔ 63 اونٹوں کو اپنے دست مبارک سے ذبح فرمایا تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ میںنے سہیل بن عمرو کو رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ منحر کے قریب کھڑے تھے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قربانی کے اونٹ آگے بڑھارہے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انہیںذبح فرمارہے تھے ۔ جب آپ قربانی سے فارغ ہوئے توآپ نے حجام کو بلوایا ۔حجام نے آپ کے سر مبارک کو مونڈا اور پھر میں نے وہ منظر بھی دیکھا جب سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کو چن رہے تھے اور انہیں اپنی آنکھوں ہر رکھ رہے تھے اور میں اس وقت کو یاد کررہاہوں کہ یہ وہ سھیل ہے جس نے صلح حدیبیہ کے روز بسم اللہ الرحمن الرحیم اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ لکھنے سے انکار کردیا تھا۔میں نے اللہ کا شکر اداکیا جس نے اسے اسلام کی نمعت سے مالا مال کیا اور اسے اسلام کی ہدایت دی ۔
سیدنا سھیل رضی اللہ عنہ نے اپنے ماضی کی غلطیوں کی تلافی اس طرح کی کہ انہوںنے جہاد کا راستہ اپنایا ۔ وہ مکہ چھوڑتے ہیں اور شام کے علاقے کی طرف چلے جاتے ہیں ۔وہاں یرموک کی لڑائی میں مسلمان فوج کے ایک بریگیڈ کے سالار تھے ۔ بہت سارے سیرت نگاروں کے مطابق ان کی شہادت جنگ یرموک میں ہوئی ۔ اس جنگ کے سالار تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے مگر اس میں عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمرورضی اللہ عنہ جیسے عظیم لوگ بھی شامل تھے ۔
یرموک میں اللہ تعالٰی نےمسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کیا ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے جگری دوست عکرمہ کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔دیکھے ہیں کہ میدان جنگ میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تین نامور شخصیات شدید زخمی حالت میں پڑی ہیں ۔ خالد بن ولید اپنے ساتھی مغیرہ کو بھیجتے ہیں ، ان کے ہاتھ میں پانی کا چھاگل ہے ، تین نامور شخصیات میں عکرمہ رضی اللہ عنہ ، سہیل بن عمرورضی اللہ عنہ اور حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ ہیں ۔ تینوں پیاسے ہیں ، مغیرہ بھاگتے ہوئے عکرمہ کی طرف بڑھتے ہیں انہیں پانی پلانا چاہتے ہیں مگر دوسری جانب سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے کراہنے کی آواز عکرمہ کے کانوں کو چھوتی ہے ۔وہ اشارہ کرتے ہیں کہ پہلے سہیل کو پانی پلاؤ، مغیرہ سہیل کی طرف بڑھتے ہیں ان کے منہ سے پانی کا مشکیزہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ ہی فاصلے پر حارث کی آواز آتی ہے ۔ سہیل بن عمر اشارہ کرتے ہیں کہ پہلے حارث کو پانی پلاؤ ، مغیرہ حارث کی جانب بڑھتے ہیں مگر قریب جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں حارث جام شہادت نوش کرچکے ہیں ، واپس پلٹنتے ہیں کہ سہیل کو پانی پلائیں ، وہ پیاسے ہیں ان کی طرف تیزی سے آتے ہیں تو دیکھتے ہیں وہ بھی اپنے رب کے پاس جاچکے ہیں ۔ وہ دیوانہ وار عکرمہ کی طرف بڑھتے ہیںمگر وہ بھی ایثار اور قربانی کی لازوال مثال پیش کرتے ہوئے ابدی نیند سوچکے ہوتے ہیں۔
پوری انسانی تاریخ میں ایثار کی اس سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں کی تینوں زخمی اپنی پیاس ساتھ لے کر ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہوئے شہادت کے اعلی مرتبے پر فائز ہوجاتے ہیں ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ان عظیم المرتبت شخصیات کے طرز عمل سے میں نہایت متاثر ہوا ہوں ۔ اللہ تعالٰی سیدنا سھیل بن عمر رضی اللہ عنہ پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور ان پر مزید فضل وکرم اور رحمتیں نازل فرمائے ۔ آمین