ابتدائی دور

پاکستان کے صوبہ سرحد میں اور اس سے ملے ہوئے افغانستان کے بڑے حصہ میں جو زبان بولی جاتی ہے وہ پشتو ہے۔ یہ پختون باشنددوں کا علاقہ ہے۔ یوں تو دوسری صدی عیسوی کی شاعری کا سراغ ایک قلمی نسخہ ٹپہ خزانہ سے ملتا ہے لیکن پشتو زبان کا جو قدیم ادب ہمارے ہاتھ آیا ہے وہ پشتو لوک گیت ہیں۔ پشتو شاعری کے پہلے دور میں جن شعرا کا پتا لگایا گیا ہے ان میں صرف چند قابل ذکر ہیں۔ پشتو کی پہلی دریافت شدہ نظم امیر کروڑ کی تخیلق ہے جو 756 میں لکھی گئی۔ اس اعتبار سے امیر کروڑ پشتو شاعری کا باوا آدم سمجھا جا سکتا ہے۔ شیخ بیٹن کو پختونوں کا جد امجد کہا جاتا ہے۔ ملک یار غرشین، حماسی شاعری کا شاعر ہے۔ شیخ منی کی کتاب "خدائے مینہ" عارفانہ اشعار کی حامل ہے۔ ملا مست افندی کی تصنیف سلوک المفردات پشتو قدیم ادب کی مشہور کتاب ہے۔ مرزا خاں انصاری نے سب سے پہلے پشتو نظم کو تصوف کی حاشنی سے روشناس کرایا دوسرے شعرا ارزانی، مخلص اور علی محمد ہیں۔ پشتو کا نثری سرمایہ شعری سرمایہ کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود قابل قدر ہے جس میں اپنے دور کے تہذیبی اقدار، معاشرتی مزاج اور مذہبی تصورات و معتقدات کو فکروفن کا موضوع بنایا گیا ہے۔ ابتدائی عہد کے نثر نگاروں میں سلیمان اکو کی کتاب تذکرةالاولیا، محمد بن النسبتی کی تاریخ سوری، شیخ کٹہ کی ارغونے پختانہ، شیخ ملی کی دشیخ ملی دختر، خان جہاں لودھی کی مراة الاافاغنہ اور مجو خاں رانی زئی کی پشتو قوم کی تاریخ، ابتدائی نثر کے بہترین نمونے ہیں۔ پیرروخاں اس عہد کی سب سے بڑی شخصیت ہے۔ وہ علمی ق ادبی نثر لکھنے والوں کا پیش رو سمجھا جاتا ہے۔ اس نے پشتو نثر کو ترقی یافتہ بنایا اور ایک نئے طرز فکر کی بنیاد رکھی۔ مرزا خاں انصاری اس مکتبہ خیال کا اہم مصنف ہے۔ دیگر نثر نگاروں میں اخوند دوریزہ، شیخ بستان، اللہ بارالکوزی اور کریم دار شامل ہیں۔
[ترمیم] درمیانی دور (1772-1638)

پشتو ادب کا یہ وہ دور ہے جب اس میں نئے عناصر داخل ہوئے۔ اس دور پر خوشحال خاں خٹک کا بڑا اثر ہے جو مفکر اور صاحب سیف و قلم تھا، بابائے پشتو کہلاتا ہے۔ دیگر اصناف سے قطع نظر خوشحال خاں نے پشتو غزل کا مقام بہت بلند کیا۔ اسکی تصانیف و تالیف کی تعداد سو کے لگ بھگ ہے جن میں بازنامہ، فضل نامہ، دستارنامہ، ہدایہ اور آئینہ معلوم و معروف ہیں۔ کریم داد اپنے علم و عرفان اور تصوف کی وجہ سے نمایاں ہے۔ بابو جان نعمانی کا کلام دینی و مذہبی مسائل پر مشتمل ہے۔ خوشحال خاں کا بیٹا عبدالقادر خاں خٹک ساٹھ کتابوں کا مصنف و مؤلف تھا۔ گلستان سعدی اور یوسف زلیخا کا پشتو میں ترجمہ کیا اور عاشقانہ داستان آدم درخانی کو نظم کا جامہ پہنایا۔ خوشحال خاں کے دور اور بیٹوں صدر خاں خٹک اور سکندر خاں خٹک نے بالترتیب نظامی گنجوی کی خسروشیریں اور محمد بن احمدالعطار تبریزی کی کتاب کا ترجمہ مہرومشتری کے نام سے کیا۔ رحمان بابا اپنے دور کا مؤرخ اور ترجمان تھا۔ شعروفکر کے لحاظ سے منفرد حیثیت کا مالک ہے۔ عشق و محبت اسکی شاعری کا خاص موضوع ہے۔ اس کے حلقہ اثر نے شاعروں کی ایک بڑی تعداد پیدا کی۔ عبدالحمید مہمند پشتو شاعری میں ایک نئے مکتب کا موسس ہے۔ فارسی مثنوی قصہ شاہ و گدا کا پشتو مثنوی میں ترجمہ کیا۔ قلندر آفریدی کی شاعری کا سرمایہ سرتاپا عشق ہے۔ مصری خاں گگیانی مختلف اصناف سخن کا قادر الکلام شاعر ہے۔ احمد شاہ بابا(جو احمد شاہ ابدالی کے نام سے مشہور ہے) صحیح معنوں میں خوشحال خاں کا جانشین تھا۔ اسکا دیوان نوائے احمد کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس عہد کے دیگر شعرا محزاللہ خاں مہمند، کاظم خاں شیدا اور علی خاں ہیں۔
[ترمیم] متاخرین کا دور (1900-1772)

یہ جنگ و جدال کا دور تھا جسکا اثر اس دور کے شعروادب پر بھی پڑا۔ اس وہد میں کلاسیکی شاعری ماند پڑ گئی اور اسکی جگہ عوامی گیتوں نے لی جن میں زیادہ تر آزادی، وطن اور شجاعت کے کارناموں کا اظہار ہے۔ لیکن اس دوران غزل اپنی ترقی کے مدارج برابر طے کرتی رہی۔ غزل گو شعرا میں تیمور شاہ کا نام پہلا ہے جو احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تھا۔ اردو اور فارسی میں بھی اس نو دیوان چھوڑے ہیں۔ پیر محمد کاکڑا اعلی درجہ کا شاعر تھا۔ معرفة الافغانی اسکی یادگار کتاب ہے۔ محمد رفیق کا قابل قدر کارنامہ شاہنامہ فردوسی کا پشتو منظوم ترجمہ ہے۔ حافظ رحمت اللہ فارسی و پشتو کے شاعر و ادیب تھے۔ خلاصہ الاطناب نام کی کتاب لکھی۔ انکے دو لڑکے نواب محبت خاں اور ایک پوتا سعادت یار خاں تینوں اپنے وقت کے اچھے ادیب و شاعر تھے۔ اس دور کے دوسرے شاعروں میں دوست محمدی صاحبزادہ، قاسم علی آفریدی، نواب رحمت خاں، بیدل میآن نعیم، حافظ الپوری، احمد کلاچوری، عب العلی اخونزدہ، نورالدین، ملا مقصود اور حافظ عبدالعلیم قابل ذکر ہیں۔ پشتو نثر کی ترقی کی راہ میں جو تصنیف سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے وہ مولوی احمد کی گنج پشتو ہے۔ انکا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پشتو نثر کا قافیہ اور سجع وغیرہ سے آزاد کر کے سادہ آسان زبان میں لکھنے کی داغ بیل ڈالی۔ تایخ سلطان محمود غزنوی کے ترجمہ کے علاوہ انہوں نے آدم درخانی کا قصہ بھی لکھا تھا۔ منشی احمد خاں نے ہنسہ دغہ اور دقصہ خوانئی کپ لکھ کر پشتو نثر کو جدید سے جدید تر بنا دیا۔ میاں نعمان الدین نے پشتو زبان کی ترویج و ترقی میں بڑا حصہ لیا۔ انکی اہلیہ زینت جہاں اور انکے بھانجے محمد یوسف بھی اچھے ادیب تھے۔ دوسرے نمایاں نثر نگاروں میں غفران الدین، امیر احمد انصاری اور احمد شاہ رضوانی ہیں۔
[ترمیم] جدید دور (1900کے بعد)

پشتو ادب اپنے جدید دور میں داخل ہونے سے پہلے اپنے ارتقا کے کئی منازل طے کر چکا تھا۔ اب نئی سیاسی تحریکوں کے ساتھ علمی و ادبی میدان میں بھی طرح نو ڈالی گئی۔ انگریزی زبان اور مغربی ثقافت کے اثرات نے پشتو کو نئی جہتوں سے روشناس کیا۔ اس دور کے شعرا و ادبا نے غم دوش کے ساتھ فکر فردا کو بھی موضوع قلم بنایا۔ اس طرح پشتو ادب جدید دور کی فکرونظر کا ترجمان بن گیا۔ مختلف مدرسہ ہائے فکر کی بنیاد رکھی گئی۔ دور جدید کے شعرا میں غلام محمد پوپازئی اور سید راحت خیلی نشاة ثانیہ کے علمبردار مانے جاتے ہیں۔ راحٹ پہلے شخص ہیں جنہوں نے پشتو تراجم کے ذریعہ اقبال کے افکار کو پشتو بولنے والوں کو متعارف کیا۔ نوجوان شعرا میں ایازدائودزے، اجمل خٹک، ولی محمد طوفان، قلندرمومند، عفران اللہ جاوید اور مطیع اللہ ناشاد قابل ذکر ہیں۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے نے اعلی پایہ کے اہل قلم اور محقق پیدا کیے مثلاً امیر حمزہ شینواری، مولانا عبدالقادر، محمد اشرف مفتون، عبدالاکبر، فضل رحیم ساقی، محمد نواز خٹک، میاں احمد شاہ اور میاں شہپر رسول وغیرہ۔ جدید دور میں طبع زاد تحریروں اور ترجمہ کا کام زمانے کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ میاں عنوان الدین نے عنوان النصائخ، میاں نعمان الدین نے سفرنامہ ابن بطوطہ، میاں محمد یوسف نے توبة النصوح اور میاں حسیب گل کاکا خیل نے مراةالعروس کے تراجم سے پشتو ادب میں جدید نثرنگاری کا آغاز کیا۔ اگرچہ اس دور میں بھی شعری ادب کو نثری ادب پر فوقیت حاصل ہے پھر بھی نثری ادب اپنا جأز مقام پانے میں بڑی حد تک کامیاب رہا۔ افسانہ، ناول اور ڈرامہ اس دور کی پیداوار ہیں۔ راحت زخیلی کا لکھا ہوا کندہ جینئی، اولین پشتو افسانہ ہے۔ بعد ازاں مختصر افسانہ حیرت انگیز طور پر ترقی کرتا ہوا تمام جدید اقدار کا حامل ہو گیا۔ اس صنف کے لکھنے والوں کی تعداد روز افزوں ہے۔ موجودہ دور کے افسانہ نگاروں میں میر مہدی شاہ قلندر مومند اور گل افضل خان کے افسانوں کو اولیت حاصل ہے۔ انکے علاوہ سیف الرحمن، ڈاکٹر شاہ افضل نادر خاں، محمد یوسف کاخیلی، گل افضل، خان مبارک سلطانہ اور زیتون بانو نے معیاری افسانے لکھے۔ پشتو افسانوں کی تاریخ و تنقید پر بھی کام ہو رہا ہے۔ شریف حسین ساحر نے اپنی کتاب پشتو ادب کی مختصر تاریخ اور عبدالرحمن سحریوسف زئی کی کتاب"تنقید خہ دی" میں پشتو افسانوں کی مختصر تاریخ کے ساتھ تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ پشتو ادب کا سب سے پہلا ناول نقش نگیں ہے جو نذیراحمد کی مراةالعروس کا ترجم ہے۔ اسکے بعد کی قابل قدر کتاب رحم اللہ کی نوری روشنی ہے۔ پھر ایک عرصہ تک اس فن پر جمود طاری ہو گیا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ جمود ٹوٹا اور تھوڑے عرصے میں کئی ایک ناول مثلا صاحبزادہ محمد ادریس کا پیغلہ، امیر حمزہ شنواری کانوی چچے، علی خاں دہقاں کا دوسروتعویز، اشرف درانی کا زرگر اور میاں محمد رسول کے چار ناول شمسی، مونئی، مغرور اور خوش شائع ہوئے۔ صنف ڈرامہ نے بھی رواج پایا۔ پہلا ڈرامہ جو اسٹیج کیا گیا وہ عبدالاکبر خاں اکبر کا تھا جو پشتو ڈرامے کے باوا آدم مانے جاتے ہیں۔ بعد ازاں امیر نواز جلیاکا ڈڑامہ درد، عبدالخالق کا خدائی خدمتگار، میاں عبدالرزاق کا جنت مانڑی اور محمد اسلم خاں خٹک کا دونیو جام منظر عام پر آئے۔ ریڈیائی ڈراموں میں بھی بہت سارے ادیبوں عبدالکریم مظلوم، امیر حمزہ شنواری اور سمندر خاں سمندر نے بڑا نام پیدا کیا۔ مقالہ نگاری کی صنف بھی اسی دور میں خوش آئند مستقبل کی حامل ہے۔ فن اور موضوعات کے لحاظ سے مقالہ نگاری کا میدان بہت تیزی سے وسعت پذیر ہے۔ فن مقالہ نگاری کو جن حضرات نے بام عروج تک پہنچایا ان میں پروفیسر عبدالرحیم نیازی، انوارالحق، حمزہ شنواری، ڈاکٹر احسان اللہ خاں، پروفیسر محمد ادریس، محمد اجمل خٹک اور قاضی ندرت اللہ قابل ذکر ہیں۔ پشتو ادب میں صحافت کی ابتدا1905 کے لگ بھگ ہوئی۔ سب سے پہلے ہفتہ وار افغان کے نام سے سید مہدی علی شاہ نے پشاور سے جاری کیا جو پشتو اور اردو دونوں زبانوں میں شائع ہوتا تھا۔ سید راحت زخیلی موجودہ دور کے ممتاز صحافی مانے جاتے تھے۔ 1948 میں صوبائی حکومت کی سرپرستی میں پشتو اکادمی قائم ہوئی جو پشتو زبان و ادب کی توسیع و ترقی کے لیے بیش بہا خدمت انجام دے رہی ہے۔