امتیاز
لوکانہ

تھانے دار جو گھوڑے پر سوار تھا‘ گاؤں میں کسی ضروری تفتیش کے لیے آیا۔ صاف ظاہر ہے اس نے سیدھا لمبڑ کے گھر جانا تھا۔ لمبڑ کے گھر کا اسے اتا پتا نہ تھا۔ اس نے گاؤں میں داخل ہوتے ہی سامنے آتی ایک خاتون سے لمبڑ کے گھر کا پوچھا۔ اس بی بی نے بتایا کہ جو مکان سب سے اونچا پکا اور خوب صورت ہے وہ ہی لمبڑ کا ہے۔ تھانے دار نے ادھر ادھر نظر دوڑائی اسے سب سے اونچا پکا اور خوب صورت مکان نظر آ گیا۔
بی بی گھر آ گئی۔ بہو نے کچھ پوچھا تو اس بی بی نے ناک چڑھا کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس نے یہ ہی طور بیٹے اور بیٹی سے اختیار کیا۔ شام کو جب تھکا ہارا خاوند گھر آیا تو اس نے اس کے ساتھ بھی یہ ہی انداز اختیار کیا۔ اسے بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے بہو سے ماجرہ پوچھا۔ بہو نے جوابا کہا: پتا نہیں کہ بےبے کو کیا ہو گیا ہے صبح ہی سے ایسا کر رہی ہے۔
اس نے پہلے پیار سے پوچھا تو وہ اور مچھر گئی۔ اس نے اس کے بعد دو چار چوندی چوندی گالیاں ٹکائیں اورمعاملہ پوچھا۔ گالیاں سن کر وہ ٹھٹھکی اور بولی: تھانےدار سے تو نہیں مل کر آئے ہو۔
اس کا جواب سن کر لامحالہ اسے حیرت ہونا ہی تھی۔ اس نے پوچھی گئی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: تم مجھے چھوڑو اپنے اس انداز کی وجہ بتاؤ۔
بی بی نے جواب دیا: اس منہ سے میں نے تھانےدار سے بات کی تھی اور اب اسی منہ سے کتوں بلوں کے ساتھ بھی بات کروں۔
وہ شخص افسردہ ہو گیا اور چارپائی پر چپ چاپ لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اٹھا اور اس نے فخریہ قسم کا قہقہ داغا۔ سب اس کے اس طور پر حیران رہ گئے۔ اب کہ تھانےدار کی سابقہ ہم کلام نے تکبر کی گرہ توڑتے ہوئے کہا: بھلیا کیا ہوا‘ پہلے افسردہ ہو گئے تھے اور اب قہقہے لگا رہے ہو۔
پاگل اگر میں تھانےدار سے ہم کلام ہوا ہوتا تو تمہیں دھکے مار کر گھر سے نہ نکال دیتا۔ ہاں اتنا ٍفخر ضرور ہے کہ میں ایسی عورت کا خاوند ہوں جسے تھانےدار سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ تمہارے مائی باپ بلاشبہ بڑے عظیم ہیں جو انہؤں نے تم ایسی عزت مآب بیٹی کو جنم دیا۔ اٹھو اور تیاری کرو کہ ان عظیم ہستیوں کے چرن چھونے چلیں۔ پھر وہ بہو بیٹی اور بیٹے کو نظر انداز کرتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئے۔
اس واقعے کے بعد بہو کا نظرانداز ہو جانا فطری سی بات تھی۔ کہاں وہ تھوڑ پونجوں کی اولاد کہاں یہ تھانےدار سے ہم کلام ہونے والی ماں کی اولاد‘ دونوں خان دانوں میں حالات نے زمین آسمان کا فرق ڈال دیا تھا۔ بےشک یہ اونچ نیچ کا امتیاز نسلوں کو ورثہ میں منتقل ہو جانا تھا۔ کھوتے کہوڑے کا امتیاز اگر مٹ جائے تو عام اور خاص کی اصطلاحیں بےمعنی اور لایعنی سی ہو کر رہ جائیں۔