نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: اسلامی فوجی اتحاد مشکوک اور متنازعہ ہے

  1. #1
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    643
    شکریہ
    193
    371 پیغامات میں 610 اظہار تشکر

    اسلامی فوجی اتحاد مشکوک اور متنازعہ ہے

    تاریخ: 10 جنوری، 2016

    اسلامی فوجی اتحاد مشکوک اور متنازعہ ہے
    تحریر: سید انور محمود
    NS-KING-RS.jpg
    جنرل(ر) راحیل شریف افواج پاکستان کے 15ویں سربراہ تھے، انہوں نے 29 نومبر 2013 سے29 نومبر 2016 تک پاک فوج کی سربراہی کی اور 15 جون 2014 سے 29 نومبر 2016 تک آپریشن ضرب عضب کہ رہنمائی کی اور رینجرز کے زریعے کراچی آپریشن کی قیادت کی۔جنرل راحیل شریف کو وزیراعظم کی طرف سے الوداعی ظہرانہ دیا گیا اور وہ عزت و احترام کے ساتھ اپنے عہدے سے سے29 نومبر 2016 کوسبکدوش ہوگئے۔ اس بات کی گواہی سارئے ملک کے عوام دیتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے پورئے پاکستان میں دہشتگردی میں خاصی کمی آئی، جبکہ لاوارث کراچی میں بھی کافی امن بحال ہوا۔ تاہم وہ اپنی خواہش اور کوشش کے باوجود دہشتگردی کو مکمل ختم اور کراچی کے عوام کو مکمل طور پر جرائم سے چھٹکارا نہ دلا پائے۔ راحیل شریف کو پاک فوج کے سربراہ کے طور پر بہت مقبولیت حاصل رہی اور بعض حلقوں میں انہیں ملک کا مقبول ترین آرمی چیف بھی کہا جاتا ہے۔ شہیدوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے جنرل راحیل شریف سے امید کی جارہی تھی کہ وہ یقیناً معاشی طور پر مستحکم ہونگے اور فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک دو کتابیں تو ضرور لکھیں گے لیکن شاید اب ایسا ناممکن ہے۔

    دسمبر 2015 میں سعودی عرب نے اپنی ہی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک تھے تاہم بعدازاں ان کی تعداد 39 ہوگئی۔ سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان، ترکی، اردن، مصر، قطر، متحدہ عرب امارات، ملائشیا اور افریقی ممالک شامل ہیں لیکن اس فوجی اتحاد میں ایران کا نام شامل نہیں ۔ مارچ 2016 میں سعودی عرب کے شہر حفر الباطن میں بارہ روزہ ’’نارتھ تھنڈر‘‘ (شمال کی گرج) نامی اسلامی ممالک کی مشترکہ فوجی مشقیں کی گئی یہ خطے کی سب سے بڑی اور اہم فوجی مشقیں تھیں۔ ان مشقوں کی اختتامی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف اور سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔ اسلامی فوجی اتحاد کا صدر دفتر سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہے جسے جوائنٹ کمانڈ سنٹر کہا جاتا ہے۔یہ تنظیم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کی کوششوں سے قائم ہوئی جس کے بارئے میں کہا جارہا ہے کہ یہ تنظیم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بنائی گئی ہے ۔

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ دور میں بیشتر اسلامی ممالک دہشت گردی کا شکار ہیں۔ شام اور عراق میں داعش، پاکستان اور افغانستان میں طالبان، ترکی میں کرد، یمن اور لیبیا میں القاعدہ، نائیجریا میں بوکوحرام جبکہ مصر اور مالی میں مختلف دہشت گرد تنظیمیں اپنی دہشتگردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔مشترکہ اسلامی فوج کے قیام کے بعد یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ اتحاد دہشتگردی کا شکار ان اسلامی ممالک میں دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا، لیکن اسلامی فوجی اتحاد کے بارے میں یہ منفی تاثر زائل ہونا چاہئے کہ یہ کسی اسلامی ملک کے خلاف ہے۔ اگر واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانا ہے تو ایران، عراق اور شام کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جائے اور سعودی عرب اور ایران سمیت تمام ملک ایک دوسرے کے خلاف ہر قسم کی پراکسی وار کو ختم کریں۔

    یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ کے خلاف برسر پیکار ہے۔ اگرچہ ان دونوں ملکوں کے اختلافات کی نوعیت سیاسی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ علاقے پر تسلط کا خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب کٹر وہابی عقائد کا پرچار کرتا ہے تو ایران انقلاب خمینی کے بعد سے اب تک سخت شیعہ عقائد کا حامی ہے۔ اس طرح ان دو مسلمان ملکوں کے تصادم کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ اور متعدد مسلمان ملکوں میں فرقہ وارانہ اختلافات صرف عقیدہ تک محدود نہیں رہے بلکہ سماجی اور سیاسی رویوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی قیادت میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد میں ایران اور دیگر شیعہ مسلک کے حامل ملک شامل نہیں ہیں اور پاکستان کےلیے یہ صورتحال کسی طور مناسب نہیں ، کیونکہ پاکستان کی رائے عامہ بھی انہی عقائد کی بنیاد پر تقسیم ہے۔ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے انقرہ میں کہا تھا کہ ’’یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جس کے تحت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے مقابلے کیلئے سنی عرب ممالک کے کردار کو وسعت دینا ہے‘‘۔ کیا امریکی وزیر کا یہ بیان مسلم ممالک کی بربادی کےلیے کافی نہیں ہے اور کیا یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق نہیں ہے۔

    جنرل راحیل شریف کچھ دن پہلے سعودی شاہ سلمان کے خصوصی طیارے میں سعودی عرب گئے تھے جہاں انہوں نے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقاتیں کیں، ان کے اعزاز میں دارالحکومت ریاض میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں سعودی حکمران خاندان کے افراد نے بھی شرکت کی۔ ان ملاقات میں سابق پاکستانی جنرل راحیل شریف کو دو سال کے لیے اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے کہا گیا جو انہوں نے قبول کرلی، اس ذمہ داری کے عوض انہیں نیٹو افواج کے سربراہ سے بھی کہیں زیادہ معاوضہ اور مراعات دی جاینگیں ، میرئے ایک دوست بار بار مجھ سے یہ سوال کررہے ہیں کہ ’’ کیا جنرل(ر) راحیل شریف بھی ریال شریف ہو گئے ہیں؟‘‘۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے یہ فیصلہ حکومت کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایسی تعیناتیوں کے لیے حکومت اور جنرل ہیڈکوارٹرز سے کلیئرنس کی ضرورت ہے اور یہ تعیناتی حکومتی منشا اور جی ایچ کیو کی کلیئرنس کے بعد ہوئی ہے۔

    جنرل(ر) راحیل شریف کسی معمولی عہدئے سے ریٹائر نہیں ہوئے ہیں، وہ پاک فوج میں نہ تو کوئی حولدار تھے اور نہ ہی کوئی دفتری بابو۔ وہ 29 نومبر 2016 تک پاک فوج کے سربراہ تھے اور اسی عہدئے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ اس حیثیت میں وہ پاکستان کے جوہری رازوں سمیت متعدد حساس اور خفیہ معلومات کے امین ہیں۔ کسی بھی فوجی افسر کی طرح ان پر بھی دو برس تک کسی قسم کا سیاسی بیان دینے پر پابندی عائد ہے۔ تو اس صورتحال میں انہیں یہ حق کیسے حاصل ہوگیا کہ فوج سے ریٹارمنٹ کے صرف 35 دن بعد وہ ایک ایسے ملک کی ملازمت اختیار کرلیں جس کی پالیسیاں پاکستان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں سے مختلف ہیں۔ اگر وہ کسی باقاعدہ اور متفقہ فوجی اتحاد میں خدمات دینے پر راضی ہوتے، تب بھی اس پر سوال اٹھائے جا تے نہ کہ وہ ایک ایسے فوجی اتحاد کا سربراہ بننے ہیں جو صرف سعودی عرب کے کی خواہشات تک محدود ہے۔ اس فوجی اتحاد پر اٹھنے والے اخراجات بھی سعودی عرب برداشت کرئے گا، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب ایسا کیوں کیوں کررہا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کے دام گرجانے کی وجہ سے سعودی معیشت بھی مشکلات کا شکارہے اور شاید اس طرح یہ ’’اسلامی فوجی اتحاد‘‘ نہایت مشکوک اور متنازعہ ہوگیاہے۔

    مشیر خارجہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا سابق آرمی چیف کا 39ممالک کے اتحاد کی کمان سنبھالنا کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متصادم ہے تو مشیر خارجہ نے اس حوالے سے اپنی لاعلمی کا اظہارکیا، مشیر خارجہ کی لاعلمی کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی ہے ہی نہیں، اس ملک میں وزیر خارجہ ناپید ہے۔ نواز شریف حکومت کو چاہیے کہ وہ یہ واضح کرے کہ اس 39ممالک کے اتحاد میں پاکستان کا کیا کردار ہے، سابق آرمی چیف کے فیصلے کو ان کا ذاتی فیصلہ کہنا درست نہیں ہے کیونکہ وہ بہت حساس عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے سعودی مہربانوں کے احسانات کے بدلے میں اپنی قوم کی مشکلات میں اضافہ نہ کریں اور جنرل(ر) راحیل شریف کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کے ایک ایسے معاہدے میں شمولیت جو ابھی سے مشکوک اور متنازہ ہے اس سےپاکستان کو کیا نقصان پہنچے گا۔
    سید انور محمود

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Mar 2015
    پيغامات
    132
    شکریہ
    0
    23 پیغامات میں 25 اظہار تشکر

    جواب: اسلامی فوجی اتحاد مشکوک اور متنازعہ ہے

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: سید انور محمود پيغام ديکھيے

    کیا امریکی وزیر کا یہ بیان مسلم ممالک کی بربادی کےلیے کافی نہیں ہے اور کیا یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق نہیں ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    کس منطق کے تحت بعض راۓ دہندگان درجنوں اسلامی ممالک اور ان کی حکومتوں کی جانب سے ليے گۓ ايک ايسے اجتماعی فيصلے کے ليے امريکہ کو مورد الزام قرار دے رہے ہيں جو خود ان ممالک کے اپنے شہريوں کی حفاظت، طرز زندگی کو برقرار رکھنے اور خود اپنی ہی املاک، وسائل اور عمارات کے تحفظ کے ليے ليا گيا ہے۔ يہ تمام ممالک خطے ميں امريکی ايجنڈوں کے حصول کے ليے کيونکر اپنے وسائل، اثاثے، افرادی قوت اور فوجی سازوسامان کھپانے کے ليے رضامند ہو جائيں گے؟

    علاوہ ازيں اگر اس دليل کو درست تسليم کر لياجاۓ کہ اسلامی ممالک کے سربراہان محض واشنگٹن سے حکم وصول کرنے پر ہی اکتفاء کرتے ہيں تو پھر تو يہ سوال ابھرتا ہے کہ ہم ايک ايسے خطے ميں کسی بھی قسم کی تبديلی کيوں چاہيں گے کہ جہاں پر حاکم تو مبينہ طور پر پہلے ہی امریکہ کی پاليسيوں پر عمل درآمد کر رہے ہيں؟

    حقيقت تو يہ ہے کہ امريکہ، سعودی عرب اور ديگر اسلامی ممالک سميت دنيا کا کوئ بھی ملک نا تو دہشت گردی کے معاملے سے لاتعلق رہ سکتا ہے اور نہ ہی جفرافيائ محل وقوع، مذہبی وابستگيوں اور سياسی نظريات کی بنياد پر اس معاملے ميں لاپروائ کا متحمل ہو سکتا ہے۔ آئ ايس آئ ايس، القائدہ، ٹی ٹی پی اور ديگر دہشت گرد گروہ خود اپنے الفاظ کے مطابق ايک ايسی فکری سوچ پر مبنی جنگ کا آغاز کر چکے ہيں جو بدقسمتی سے نا تو کسی سرحد کو جانتی ہے اور نا ہی کسی اختلاف کرنے والے عنصر کو محفوظ راستہ دينے پر يقين رکھتی ہے۔ اس ضمن ميں دہشت گرد گرہوں اور خاص طور پر آئ ايس آئ ايس کی جانب سے مسلم اور غير مسلم ممالک کی کوئ تفريق نہيں رکھی گئ ہے۔ آئ ايس آئ ايس نے متعدد بار عالمی سطح پر حملے کرنے کی اپنی خواہش کو واضح کيا ہے۔ ايسے کوئ شواہد يا اشارے موجود نہيں ہيں جس سے يہ شائبہ ہو کہ ان کے عزائم کسی مخصوص مذہب يا ملک تک محدود ہيں۔ ان کے تشہيری مواد اور بيانات کی مختلف زبانوں ميں دستيابی اور ميڈيا سے روابط کے علاوہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور ممالک تک رسائ اس بات کی غمازی کرنے کے ليے کافی ہے کہ ان کے مقاصد اور اہداف عالمی نوعيت کے ہيں۔

    اس بات کی ايک منطقی، قابل قبول اور عقل پر مبنی توجيہہ موجود ہے کہ عالمی برادری بشمول اسلامی ممالک اب اس بات پر متفق ہيں کہ ان قوتوں کے خلاف مشترکہ کاوشوں اور وسائل کا اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے جو نا تو سرحدوں کی حرمت کو مانتے ہيں، نا ہی متنوع ثقافتی اقدار کا پاس رکھتے ہيں۔ يہ دہشت گرد ديگر مذاہب کے ضمن ميں عدم رواداری کے ساتھ عمومی طورپر ہر اس عنصر کے خلاف نفرت کے جذبات رکھتے ہيں جو ان کی وحشيانہ طرز زندگی اور مخصوص مذہبی سوچ سے ميل نا کھاتا ہو اور اس ضمن ميں وہ دنيا بھر ميں مسلمانوں کی اکثريت کو بھی اسی پيراۓ ميں ديکھتے ہيں۔

    سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ اتحاد ميں شامل اکثر ممالک جغرافيائ طور پر آئ ايس آئ ايس کے محفوظ ٹھکانوں کے قريب اور ان کی براہ راست زد ميں ہيں۔ ان محفوظ ٹھکانوں سے جغرافيائ طور پر اتنا قريب ہونا اس دليل کو مزيد تقويت بخشتا ہے کہ ان ممالک کے ليے اپنے اسٹريجک اتحاديوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا انتہائ اہم ہے تا کہ اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے شہريوں کی حفاظت کو بھی يقینی بنايا جا سکے۔

    يہ دعوی کہ دہشت گردی کے عالمی عفريت کے خلاف کوئ بھی کوشش محض امريکی ايجنڈوں کی تکميل کا سبب بنتی ہے، بالکل غلط ہے اوراسے حقائق کی کسوٹی پر درست ثابت نہيں کيا جا سکتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دنيا بھر ميں آئ ايس آئ ايس کے دہشت گرد حملے اور ان کے نتيجے ميں عالمی سطح پر انگنت بے گناہ شہريوں کی ہلاکت اس حقيقت کا ثبوت ہے کہ مسلم اور غير مسلم کی تفريق سے قطع نظر آج کے دور ميں کوئ بھی ملک اور حکومت اس لڑائ ميں محض تماشائ نہيں بن سکتی جو کئ برس تک جاری رہ سکتی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

اس موضوع کے کلیدی الفاظ (ٹیگز)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University