PDA

View Full Version : جناب لیاقت علی خان کا قتل



بےباک
04-18-2015, 08:55 PM
شہادت لیاقت علی خان۔۔۔ کے بارے ایک تحریر
نواب زادہ لیاقت علی خان دواکتوبراٹھارہ سو چھیانوے میں ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے ہی حاصل کی اورانیس سو اٹھارہ میں ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی، انیس سو تئیس میں برطانیہ سے واپس آنے کے بعد لیاقت علی خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیااورمسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ انیس سو چھتیس میں مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اورقائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست رہے، انیس سو چالیس میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک وہ اترپردیش اسمبلی کے رکن رہے، پاکستان کے قیام میں نوابزادہ لیاقت علی خان کا کردار سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ، انیس سو اڑتالیس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر قوم کے نگہبان بنے۔ سولہ اکتوبرانیس سو اکیاون کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں جلسے کے دوران پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کواکبرنامی شخص نے گولی مارکرقتل کردیا اوریوں قائد ملت کا قتل ایک راز بن کررہ گیا۔ ساٹھ برس گزرنے کے باوجود ملک کے پہلے وزیراعظم کے قتل کے محرکات کا آج تک پتا نہیں چل سکا۔ ان کے آخری الفاظ یہ تھے ،،،،،،
کلمہ شریف اور پاکستان کا خدا حافظ
اس بارے ایک تازہ رپورٹ حال ہی میں شائع ہوئی ، آپ کے لئے پیش خدمت ہے ۔

اس خبر کا لنک یہ ہے ،
http://www.nawaiwaqt.com.pk/islamabad/17-Apr-2015/377571
اسلام آباد (آن لائن) قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکہ نے افغان حکومت کے ذریعے قتل کرایا۔ امریکی منصوبے کے تحت افغان حکومت کے تیار کردہ قاتل کو دو ساتھی ملزموں نے قتل کیا دونوں معاون قاتل ہجوم نے روند دیئے اس طرح قائد ملت کا قتل ایک سربستہ راز بن گیا یہ انکشاف چند سال میں امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ری کلاسیفائیڈ دستاویزات میں کیا گیا ہے یہ دستاویزات اگرچہ 59 سال پرانی ہیں مگر پاکستان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ آن لائن کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ان دستاویزات میں اس جرم سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے تیل کے چشموں پر نظر رکھتا تھا وہ جانتا تھا کہ اس دور میں ایران اور پاکستان کے تعلقات بہت زبردست ہیں۔ 1950-51ءمیں افغانستان‘ پاکستان کا دشمن شمار ہوتا تھا۔ اس وقت امریکی صدر نے قائد ملت لیاقت علی خان سے سفارش کی تھی کہ اپنے قریبی دوستوں ایرانیوں سے کہہ کر تیل کے چشموں کا ٹھیکہ امریکہ کو دلا دیں اس پر لیاقت علی خان نے دو ٹوک جواب دیا کہ میں ایران سے دوستی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا نہ ہی انکے داخلی معاملات میں مداخلت کروں گا۔ اگلے روز امریکی صدر ٹرومین کا لیاقت علی خان کو دھمکی آمیز فون موصول ہوا۔ لیاقت علی خان نے جواب میں کہا کہ میں ناقابل خرید ہوں یہ کہہ کر فون بند کر دیا اور حکم دیا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر پاکستان میں امریکہ کے جتنے طیارے کھڑے ہیں وہ پرواز کر جائیں، اپنے ملک کو واپس چلے جائیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں اسی لمحے میٹنگ ہوئی اور طے ہوا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان ہمارے کام کا آدمی نہیں۔ واشنگٹن ڈی سی سے کراچی میں امریکی اور کابل کے سفارتخانے کو فون کیا کہ قاتل کو افغانستان میں تلاش کیا جائے۔ امریکہ نے شاہ ظاہر شاہ کو یہ لالچ دیا کہ اگر تم لیاقت علی خان کا قاتل تیار کرا دو تو ہم صوبہ پختونستان آزاد کرا لیں گے افغان حکومت فوراً تیار ہو گئی 3 آدمی ڈھونڈے ایک سید اکبر تھا جسے گولی چلانی تھی دو مزید افراد تھے جنہوں نے اس موقع پر سید اکبر کو قتل کر دینا تھا تاکہ کوئی نشان کوئی گواہ باقی نہ رہے اور قتل کی سازش دب جائے 16 اکتوبر سے ایک دن پہلے سید اکبر اور اس کے وہ ساتھی جنہیں وہ اپنا محافظ سمجھتا تھا تینوں راولپنڈی آئے ایک ہوٹل میں ٹھہرے قبل از وقت کمپنی باغ میں اگلی صفوں میں بیٹھ گئے۔ جیسے ہی لیاقت علی خان جلسہ گاہ میں آئے اور اپنے خاص انداز میں کھڑے ہو کر کہا برادران ملت! تو سید اکبر نے کوٹ سے رائفل نکال کر 2 فائر کئے جو سیدھے لیاقت علی خان کے سینے پر لگے اور آپ سٹیج پر گرے آپ کے آخری الفاظ یہ تھے ”خدا پاکستان کی حفاظت کرے“۔ ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے 2 کارٹیجز نکلے جن پر امریکی مہر تھی گولیاں امریکی فوج کے اونچے درجے کے افسروں کو دی جاتی تھیں۔ اس حوالے سے انکشافات پر مبنی ڈاکٹر شبیر کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں اس محب وطن شہری نے امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ری کلاسیفائیڈ کی گئی دستاویزات پر ردعمل بھی دیا ہے۔

بےباک
04-18-2015, 08:57 PM
بی بی سی کے مطابق


سولہ اکتوبر1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسۂ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اوائل سرما کی اس شام نوابزادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کےاستقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ گارڈز کے مسلح دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ پنڈال میں چالیس پچاس ہزار کا مجمع موجود تھا۔

مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی ’برادران ملت‘ کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ فضا میں مائیکرو فون کی گونج لحظہ بھر کو معلق رہی۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ’دا چا ڈزے او کڑے؟ اولہ۔‘ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ ’گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!‘

نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر یکے بعد دیگرے ویورلے ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلےپندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے یکے بعد دیگرے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔

وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔

لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پُراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنماؤں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ذیل میں ہم اسی سازش سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں

بےباک
04-18-2015, 09:14 PM
اس بارے میں ایک اور تحریر ملاحظہ فرمائیں
لیاقت علی خان کی شہادت کا آنکھوں دیکھا حال
وجیہہ السیما عرفانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


15اکتوبر کو خان لیاقت علی خان پنڈی آرہے تھے، مجھے باوثوق ذرایع سے اطلاع مل چکی تھی کہ قائدِ ملت راولپنڈی پہنچ کر ایک نہایت ہی اہم اعلان کریں گے۔
میں گیارہ بجے چک لالہ کے ہوائی اڈے پر پہنچ گیا۔ معززین شہر، ایم ایل اے حضرات، مسلم لیگ کے عہدے دار ایک طرف کھڑے تھے۔ تعلقات عامہ کشمیرکے ڈائریکٹر ضیاء الاسلام،فوج کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کمانڈر مقبول اور اے پی پی اور پاکستان ٹائمز کے نمایندے بھی موجود تھے۔ ایک طرف نواب مشتاق احمد گورمانی وزیر امور کشمیر، مسٹر یوسف خٹک جنرل سیکریٹری پاکستان مسلم لیگ، لیفٹیننٹ جنرل ناصر علی خاں چیف آف اسٹاف، میجر جنرل یوسف، مسٹر انعام الرحیم کمشنر اور دوسرے حضرات بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک جانب ڈی آئی جی پولیس خان نجف خان، ڈی ایس پی عبدالرشید خاں ڈائریکٹر آف انٹیلی جینس چوہدری غلام مرتضیٰ اور کچھ اور حضرات کھڑے تھے۔ میں ان تمام حضرات سے تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے ملتا ہوا گراؤنڈ میں داخل ہوا تو قائدِ ملت کا ہوائی جہاز زمین کو چھو چکا تھا اور اسی طرف بڑھتا آرہا تھا۔ کسی کو کیا خبر تھی کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ہوگا۔
جہاز رُکا تو مسٹر گورمانی، مسٹر انعام الرحیم اور جنرل ناصر علی خاں آگے بڑھے۔ پہلے وزیر اعظم کے سیاسی سیکریٹری نواب صدیق علی خان اُترے، پھر لیاقت علی خان سامنے آئے۔ لیاقت کے چہرے پر ہم ہمیشہ جو شگفتگی دیکھا کرتے تھے، وہ آج ان کے چہرے پر نہ تھی۔ چہرے پر زردی تھی، کمزوری تھی اور تھکن کے آثار بہت نمایاں تھے۔ وزیر اعظم ہوائی فوج کے دستے کی سلامی لینے کے لیے تشریف لے گئے۔ پھر معززین شہر سے ملنے کے لیے تشریف لائے۔ کمشنر اور سٹی مسلم لیگ کے صدر نے حاضرین کو آپ سے متعارف کرایا۔ آپ نے ایک ایک سے ہاتھ ملایا مگر وہ شگفتگی جو ان کا ہمیشہ سے خاصہ رہی تھی، ان کے چہرے پر نہ آئی۔ ہم لوگوں کے متعلق کمشنر نے اخباری نمایندوں کا لفظ کہا تھا تو ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے اخبار اور ادارے کا نام بتایا۔ وہ آگے بڑھے تو ہم ساتھ ہولیے۔ تعارف سے فارغ ہوتے ہی ہم نے انھیں گھیر لیا۔ میں نے ان سے دریافت کیا،’’راولپنڈی میں آپ کی آمد کا مقصد کیا ہے؟‘‘

انھوں نے مسکرا کر اور اپنے روایتی لہجہ میں کہا،’’آپ لوگوں سے ملنے کے لیے۔‘‘
پھر پاکستان ٹائمز کے نمایندے نے آپ سے دریافت کیا کہ وزیر صنعت چوہدری نذیر احمد کے خلاف تحقیقات کس مرحلے میں ہے؟ وزیر اعظم نے قدرے حیرت کا اظہار کیا اور پھر فرمایا،
’’چوہدری نذیر احمد کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہورہی ہے، یہ بات قطعی غلط ہے۔‘‘
میں نے آگے بڑھ کر ایک اور سوال کیا،’’پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جو خلفشار پیدا ہوا تھا، کیا وہ اب نہیں رہا؟ اور جنگ کے جو امکانات واضح تھے، کیا اب ختم ہوگئے ہیں؟‘‘
وزیر اعظم لمحے بھر کے لیے سنجیدہ ہوگئے اور پھر نیم مسکراہٹ کے ساتھ فرمانے لگے، اگر یہ بات آپ کو میں بتادوں تو جو پبلک جلسہ ہورہا ہے، اس میں کیا کہوں گا؟ اس کے متعلق میں جلسہ میں بتاؤں گا۔
میں نے آپ سے پھر ہاتھ ملایا اور وہ موٹر کی طرف تشریف لے گئے اور ہم نواب صدیق علی خان صاحب سے رسمی گفت گو کرنے لگے۔ اگلے روز یعنی اکتوبر کو کیمبل پور کی ایک اہم فوجی تقریب میں قائدِ ملت کو شریک ہونا تھا، میں نے ان کے قافلے کے ساتھ ہی کیمبل پور جانے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ میں ہوائی اڈے سے موٹر میں بیٹھ کر کمپنی باغ کے راستے جلسہ گاہ کے انتظامات دیکھتا ہوا دفتر چلا آیا۔
کمپنی باغ میں:کمپنی باغ کا جلسۂ عام تین بجے شروع ہونا تھا اور ٹھیک چار بجے قائدِ ملت کو پہنچنا تھا۔ میں تین بجے جلسہ گاہ میں پہنچ گیا۔ اسٹیج اچھا بنایا گیا تھا اوردائیں طرف لاؤڈ اسپیکروں کا اور بائیں جانب ریڈیو پاکستان کا عملہ تھا۔ ان کے ساتھ ہی اخبارات کے نمایندے بیٹھے تھے۔ چار بجے تک نظمیں وغیرہ ہوتی رہیں۔ ٹھیک چار بجے بینڈ نے قائدِ ملت کے استقبال کا ترانہ چھیڑا اور آپ مسلم لیگ نیشنل گارڈ، قومی رضاکاروں، پولیس افسروں، سی آئی ڈی اور اعلیٰ حکام کے پہرے میں پنڈال میں داخل ہوئے۔
اسٹیج ایک بڑے قالین سے سجایا گیا تھا۔ ڈائس پر آتے ہی قائدِ ملت نے حسبِ عادت منٹ بھر تک ہجوم کی تسلیمات لیں مگر چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے تفکر تھا۔ ڈائس پر ایک ہی کرسی تھی، جس پر قائدِ ملت کو بٹھایا گیا۔ صدر مسلم لیگ نے آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار پہنایا اور فضا پاکستان زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد اور لیاقت علی خان زندہ باد کے پُرجوش نعروں سے گونج اُٹھی۔ جلسہ باقاعدہ شروع ہوا۔
سب سے پہلے مولانا عارف اﷲ نے تلاوتِ قرآن شریف کی، پھر بلدیہ کے صدر شیخ مسعود صادق ایم ایل اے نے ایک سپاس نامہ اہلِ شہر کی طرف سے پیش کیا۔میں نے بارہا لیاقت علی خان کو جلسوں میں سپاس نامے سُنتے ہوئے دیکھا ہے، مگر اب کے جب سپاس نامہ پیش کرنے والے نے کشمیر اور دفاعِ وطن کا ذکر کیا تو لیاقت علی خان کی آنکھوں میںایک ایسا عزم اور ولولہ چھلکنے لگا، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آج انہیں بالخصوص اس مسئلے پر کچھ کہنا ہے اور میری یہ اطلاع دُرست ہے کہ وہ کوئی اہم اعلان کرنے والے ہیں۔ سپاس نامہ ختم ہونے کے بعد شیخ محمد عمر صاحب نے مختصر سی تقریر کی۔

لیاقت علی خان کو ہار پہناتے وقت چند رُوپہلے تار ان کی ٹوپی کے اوپر اٹک گئے تھے۔ نواب صدیق علی خان نے انھیں دیکھ لیا اور اُٹھ کر بڑے ادب کے ساتھ انھیں دُرست کردیا۔ شیخ محمد عمر کی تقریر ختم ہونے پر وزیر اعظم ایک عظمت و وقار اور سنجیدگی، عزم اور تفکر کا پیکر بنے کرسی سے دُور مائیکرو فون کے سامنے اسٹینڈ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوئے۔ انہوں نے ’’برادرانِ ملت‘‘ کا لفظ ابھی کہا ہی تھا کہ ٹھاہ ٹھاہ کی آواز آئی اور قائدِ ملت بایاں ہاتھ دِل پر رکھے ہوئے تیورا کر پیٹھ کے بل گِر پڑے۔ اسٹینڈ بھی ساتھ ہی گِر گیا۔ حملہ آور مجمع سے تقریباً چھے گز کے فاصلے پر ان کے بائیں کندھے کے برابر ترچھا بیٹھا تھا۔ اس کے گولی چلاتے ہی قریبی لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔ حملہ آور نے تین چار گولیاں بعد میں بھی چلائیں، جن سے دو آدمیوں کی ٹانگوں میں زخم آئے۔ ایسے میں پولیس نے ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ یہ سب کچھ اس قدر غیر متوقع اور یک دم ہوا کہ کسی کے بھی حواس بجا نہ رہے اور گویا سب کی آنکھیں پتھرا گئیں۔
جذبات سے بے قابو ہجوم نے گھونسے، لاتیں، گملے، لاٹھیاں اور برچھیاں مار مار کر قاتل کی ہڈیاں تک ٹکڑے کر ڈالیں۔ کچھ لوگ گولیاں چلنے کی دہشت سے میزوں اور اسٹیج کے نیچے چھپ گئے تھے۔ غرض ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ میں ایسے میں فوراً اچک کر اسٹیج پر پہنچ گیا، جہاں وزیر اعظم بالکل چت پڑے تھے۔ ان کا چہرہ زرد تھا اور آنکھیں پوری طرح کُھلی ہوئی تھیں۔ حملہ ہونے کے بعد شیخ محمد عمر نے انھیں سنبھالا دیا اور ان کے گِرنے کے بعد جو شخص سب سے پہلے لپک کر ان تک پہنچا، وہ پنڈی کے ڈپٹی کمشنر مسٹر ہارڈی تھے۔ ساتھ ہی پولیٹیکل سیکریٹری نواب صدیق علی خان، پھر راولپنڈی سول اسپتال کے انچارج ڈاکٹر اقبال انصاری اور راقم الحروف پہنچے، پھر پروفیسر عنایت اﷲ اور ایک اور ڈاکٹر صاحب، جنہیں میں نہیں جانتا۔ مسٹر جاوید نمایندہ پاکستان ٹائمز اور وزیر اعظم کے افسر رابطہ مسٹر جمیل پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ روتے پیٹتے چیخ چلا رہے تھے۔ میں نے پیچھے مُڑ کر ایک نظر دیکھا۔ قاتل کھڑا تھا اور لوگ اسے دبوچ رہے تھے۔ منٹ بھر بعد میں نے اسے اوندھے منہ پڑے ہوئے اور برچھیاں کھاتے ہوئے دیکھا۔
حملہ آور:یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حملہ آور نے بیٹھے ہوئے گولیاں چلائیں۔ اس نے ریوالور سے نہیں بلکہ پستول سے گولیاں چلائیں اور ظالم نے ایسا نشانہ لگایا کہ ٹھیک دِل کے مقام پر جا کر لگا۔ اس نے ٹھیک اس وقت گولی چلائی، جب ہجوم میں سے ہر ایک کی نگاہ قائدِ ملت کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے قاتل کو کندھے پر چادر رکھے ہوئے دیکھا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اس نے چادر کی آڑ سے نشانہ لگایا ہو ویسے قاتل کے اردگرد کے چند آدمی لامحالہ اس کے ساتھ ہوں گے کیوں کہ کم از کم ہاتھ سیدھا کرتے اور پستول کا رینج لیتے وقت اس کے ساتھی کو پتا چل جانا ضروری تھا۔
میں ذکر کررہا تھا کہ بہت سے لوگ روتے پیٹے حواس باختہ، سخت مغلوب الغضب اور مختل تھے۔ ڈاکٹر اقبال انصاری پریشانی سے کہنے لگے، گولی کہاں لگی ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ شیروانی دِل کے پاس سے تھوڑی سی کٹی ہوئی ہے۔ چناں چہ میں نے اور ڈاکٹر صاحب نے مل کر شیروانی کے بٹن کھولے اور انھوں نے قمیص پھاڑ ڈالی۔ اتنے میں لیاقت علی خان نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ ڈاکٹر صاحب نے پانی منگایا، پانی شہید کے منہ کے ساتھ لگایا گیا تو ہم دونوں ان پر جھک گئے۔ ان کے منہ سے آواز آئی، ’’اﷲ‘‘ پھر انھوں نے کلمہ تین مرتبہ پڑھا، اس کے بعد لیاقت علی خان کی زُبان سے رُک رُک کر یہ الفاظ نکلے ’’پاکستان، پاکستان، خدا، پاکستان کا خدا حافظ۔‘‘ پھر انھوں نے بائیں آنکھ میچ لی، دائیں آنکھ کُھلی تھی۔ ڈاکٹر انصاری نے ہاتھ سے دائیں آنکھ بند کرنے کی کوشش کی مگر پوری بند نہ ہوئی۔ پھر انھوں نے نبض دیکھی اور قمیص پھاڑ کر دِل کی جگہ کان رکھا اور چیخ کر کہا، جلدی اسپتال لے چلو، اس سے یہ اُمید ہوگئی کہ لیاقت علی خان شاید بچ جائیں ہیں۔
میں نے ڈائس پر آتے ہی قائدِ ملت لیاقت علی خان کی ٹوپی جو ان کے سر کے پاس گِر گئی تھی، اٹھالی۔ ہم سب نے قائدِ ملت کا بے جان جسم اُٹھا کر ایک کار میں لٹادیا۔ کار کو ڈاکٹر اقبال انصاری کمائنڈ ملٹری اسپتال لے گئے۔ میں اور مسٹر جاوید دوسری کار میں اسپتال پہنچے۔ (اے پی پی کے نامہ نگار کی یہ اطلاع کہ وہ خود موقع پر موجود تھا، بالکل غلط ہے) راستے بھر لوگ چیخ رہے تھے اور لیاقت علی خان کی زندگی کے لیے اپنے بچوں کی زندگیوں کی پیش کش بارگاہِ الٰہی میں کررہے تھے۔ اسپتال اور پھر فوج کا اسپتال کسی کو کچھ پتا نہ تھا کہ کیا حال ہے۔ تاہم پتا چلا کہ آپریشن کیا گیا اور دو گولیاں نکالی گئیں۔ ان کے جسم میں خون بھی داخل کیا گیا۔ ہم باہر منتظر تھے کہ پہلے شہیدِ ملت کا اردلی بے ہوش ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد شیخ مسعود صادق بھی صدمے سے بے ہوش ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد آپریشن روم سے جو لوگ باہر نکلے ان کے چہرے پر کچھ اچھے تاثرات نہ تھے۔ تاہم، بتایا یہی گیا کہ وہ زندہ ہیں۔
میں اور جاوید ایک موٹر لے کر ٹیلی گراف آفس پہنچے۔ میں نے ’’آفاق‘‘ کے لیے کال بُک کرائی اور جاوید نے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے لیے۔ دونوں کو کال مل بھی گئی مگر عین وقت پر مسٹر ضیاء الاسلام ڈی پی آر اور کمانڈر مقبول پہنچے اور ہمیں کال منسوخ کرادینے کے لیے کہا۔ میں اب اپنی خبر کے لیے عبارت تلاش کررہا تھا مگر بالکل سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا لکھوں۔ ہم واپس اسپتال پہنچے تو دروازے پر فوج کا پہرہ لگ چکا تھا اور تمام اعلیٰ سرکاری حکام بھی باہر حیران پھر رہے تھے۔
یہاں سے ہم اے پی پی کے دفتر آئے۔ دوسرے لوگ بھی یہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے حواس بدستور مختل تھے کہ اتنے میں اے پی پی کے چشتی صاحب نے کریڈ دیکھ کر کہا،انا اﷲ وانا الیہ راجعون۔ میں باہر کی طرف چل پڑا اور صدر بازار آنکلا، ریڈیو پر تلاوت قرآن پاک ہورہی تھی اور ہر شخص گہرے رنج و غم کی تصویر بنا خاموش تھا، بازار بند تھے۔ ہڑتال ہوگئی تھی۔ ویسے دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان بھی ہوچکا تھا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شہید لیاقت علی خان نے خود راولپنڈی میں ایک عام جلسے سے خطاب کرنے کا ارادہ اور خواہش ظاہر فرمائی تھی۔ یہ بات کہ ڈائس پر ان کی کرسی کے سوا کوئی کرسی نہ ہو، اور پانچ فٹ سے اونچا اسٹیج ہو اور اس کے اوپر کوئی شامیانہ نہ ہو اور اس طرح ہو کہ تمام حاضرین ان کے سامنے رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی منشا اور خواہش کے مطابق کیا گیا تھا۔ ہوائی اڈے سے لے کر ’’برادران ملت‘‘ کے آخری الفاظ کہنے تک ان کے چہرے پر شدید سنجیدگی، تھکن اور سب سے زیادہ تفکر اور گہرے تفکر کے آثار نمایاں تھے۔ سوائے اس لمحے کے جب انھوں نے ایئر پورٹ پر میرے سوالوں کا جواب دیا، ان کے چہرے پر کسی بھی وقت مسکراہٹ، بشاشت اور شگفتگی نہیں آئی۔ ٹھیک یہی سنجیدگی اور تفکر ان کے چہرے پر اس وقت بھی نمایاں تھا جب وہ گولی کھا کر کلمہ شریف اور پاکستان کا خدا حافظ کے آخری الفاظ کہہ کر بے ہوش ہوئے تھے۔ کراچی والوں نے شاید ان کا جنازہ پڑھتے وقت ان کے چہرے پر کوئی طمانیت دیکھی ہو۔

اس کا لنک یہ ہے ،http://www.express.pk/story/186348/

بےباک
04-18-2015, 09:29 PM
عرب نیوز میں اس کی یہ تفصیل موجود ہے ،
http://www.arabnews.com/node/287940
مزید دیکھیں
http://www.deliberation.info/gentlemen-our-souls-are-not-for-sale/
،،،،،،،،،،،،،،،،
http://www.pakistantoday.com.pk/2015/04/17/national/secret-is-out-americans-murdered-liaquat-ali-khan/

سید انور محمود
04-19-2015, 03:59 PM
بے باک صاحب قیمتی معلومات شیر کرنے کا بہت بہت شکریہ۔

بےباک
04-20-2015, 04:25 AM
http://ummat.net/2015/04/20/images/story2.gif

بےباک
04-21-2015, 06:27 AM
http://ummat.net/2015/04/21/images/story6.gif

Shanzeh
04-21-2015, 07:41 PM
شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

انٹرنيٹ اور دن بدن پھيلتے ہوۓ سوشل ميڈيا کے دور ميں جبکہ ناقابل ترديد حقائق تک رسائ اب پہلے کے مقابلے ميں کافی سہل ہو چکی ہے، اس نوعيت کی خبری رپورٹس کی جلی حروف ميں تشہير کی بجاۓ انھيں فورمز کے طنز ومزاح کے ليے مختص سيکشن ميں جگہ دی جانی چاہيے۔ مگر شايد لچھے دار کہانيوں کی بنياد پر شدت جذبات کا اظہار اور منفی طرزعمل، حقائق کی
تحقيق کے بعد دانشمندانہ اظہار راۓ کے مقابلے ميں زيادہ آسان ہے۔

سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ جس معلومات کو تروڑ مروڑ کر يہ رپورٹ تيار کی گئ ہے، وہ پيش کردہ غلط تاثر کے برعکس حاليہ دنوں کی نہيں ہے۔ اس پوری خبر کی بنياد جولائ 18 2006 ميں عرب نيوز ويب سائٹ پر شائع ہونے والی ايک رپورٹ ہے جو آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں جس سے اس "نۓ انکشاف" کی حقيقت سب پر واضح ہو جاۓ گی۔

http://www.arabnews.com/node/287940


اس کالم ميں يکطرفہ رپورٹنگ اور شہ سرخی کو ايک طرف رکھتے ہوۓ صرف يہ ديکھيں کہ جھوٹ کو گھڑنے کے ليے کس سورس کا حوالہ ديا گيا ہے۔

دستاويز کے مطابق، اکتوبر 30 1951 کو نئ دہلی ميں امريکی سفارت خانے کی جانب سے ايک ٹيلی گراف ارسال کيا گيا جس ميں يہ تحرير درج تھی

"کيا لياقت علی خان کا قتل ايک گہری امريکی سازش کا نتيجہ تھا؟" نئ دہلی ميں امريکی سفارت خانے کی جانب سے بھيجے گۓ ٹيلی گراف ميں اکتوبر 24 1951 کو بھوپال کے ايک مقامی اخبار "نديم" ميں شائع ہونے والے ايک ايسے کالم کے اہم نقاط کا خلاصہ پيش کيا گيا تھا جس ميں لياقت علی خان کی موت کے ليے امريکہ کو مورد الزام قرار ديا گيا تھا۔

ٹيلی گراف ميں لکھے گۓ خلاصے ميں صرف وہی نقاط شامل تھے جو روزنامہ "نديم" ميں موجود کالم ميں پہلے سے موجود تھے۔

دنيا بھر ميں سفارت خانوں ميں کام کرنے والے ملازمين کے ليے يہ روز کا معمول ہوتا ہے کہ وہ مقامی ميڈيا اور اخبارات ميں پيش کيے جانے والے خيالات، تجزيوں اور خبروں سے اپنی حکومتوں کو باخبر رکھتے ہيں تا کہ مقامی طور پر مقبول عام نظريات اور عوامی سوچ جو دونوں ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت پر اثرانداز ہو سکتی ہے، اس سے مکمل آگہی حاصل کی جا سکے۔ يہ پيغامات جو سفارت خانے کے عملے کی جانب سے اپنی حکومتوں کو بھيجے جاتے ہيں، وہ محض مقامی ميڈيا ميں پنپنے والی سوچ کے آئينہ دار ہوتے ہيں۔ يہ سفارت خانے کے عملے کی ذاتی سوچ نہيں ہوتی بلکہ وہ تو خبروں کی رپورٹنگ کر کے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہوتے ہيں۔

اگر آپ واقعی امريکی حکومت کے موقف اور اس سوچ کے بارے ميں جان کاری چاہتے ہيں جو سال 1951 ميں وزيراعظم لياقت علی خان کے قتل کے وقت تھی تو اس کے ليے سی آئ اے کی اکتوبر 22 1951 کی يہ دستاويز پيش ہے جو اس وقت تو خفيہ تھی ليکن اب اسے "ڈی کلاسيفائيڈ" کر ديا گيا ہے۔

http://www.foia.cia.gov/sites/default/files/document_conversions/89801/DOC_0000010596.pdf

صفحہ 2 کے آخری پيراگراف ميں واضح طور پر درج ہے

"اينٹيلی جينس کے ڈائريکٹر، يو ايس اے ايف، کے مطابق قاتل کے محرکات اور اس کی وابستگی کے ضمن ميں مکمل معلومات نا ہونے کے سبب اس قتل کے اثرات کا مکمل تجزيہ ممکن نہيں ہے"۔

اس دستاويز کے صفحہ آٹھ کا آخری پيراگراف بھی توجہ طلب ہے جہاں يہ بات واضح کی گئ ہے کہ امريکی حلقوں ميں لياقت علی خان کو ايک ايسے ليڈر کے حوالے سے ديکھا جاتا تھا جو اپنے نظريات کے حوالے سے مغرب کے ليے مثبت سوچ رکھتے تھے۔

کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ امريکی حکومت ايک ايسے ليڈر کے خلاف کوئ بھی قدم اٹھاۓ گی جو خود ہمارے اپنے اعتراف کے مطابق امريکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات کے متمنی تھے؟

چونکہ مختلف فورمز پر تشہير کردہ اس رپورٹ کا لب لباب اور اس کی بنياد خود امريکی حکومت کی ہی ايک دستاويز ہے اور اسی بنياد پر اسے ايک "ناقابل ترديد ثبوت" قرار ديا گيا ہے تو پھر اسی منطق اور پيمانے کے تحت اسی امريکی حکومت اور سی آئ اے کی ہی پيش کردہ دستاويز کو بھی درست تسليم کيا جانا چاہيے جو وزير اعظم لياقت علی خان کے قتل کے حوالے سے ہماری سوچ کو واضح کرتی ہے۔


شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

بےباک
04-22-2015, 08:27 PM
http://ummat.net/2015/04/22/images/story9.gif

بےباک
04-22-2015, 08:33 PM
جناب شانزے صاحب ، سب سے پہلے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،
آپ جس لنک کے بارے ذکر فرما رہے ہیں ، اس کو میری پوسٹ میں مشاھدہ کر سکتے ہیں ،
حقائق تلاش کرنا کافی مشکل ہوتا ہے اور جب کہ معاملہ بہت پرانا ہو ۔ اور معلومات کا بے ربط مجموعہ کسی قتل کے کیس سے پردہ نہیں اٹھا سکتا ، تجزیہ اور اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے ،

بےباک
04-23-2015, 06:40 AM
http://ummat.net/2015/04/23/images/story8.gif

Shanzeh
04-24-2015, 08:35 PM
شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

جہاں تک سياسی قتل کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں سال 1976 ميں امريکی صدر فورڈ کی جانب سے ايشو ہونے والے سرکاری حکم نامے 11905 کی جانب بھی توجہ مرکوزکريں جس ميں امريکہ کی خارجہ ممالک ميں معلوماتی سرگرميوں کی وضاحت کر دی گئ ہے۔ "معلوماتی سرگرميوں پر قدغن" نامی سيکشن ميں امريکی صدر فورڈ نے سياسی قتل پر مکمل پابندی کا حکم نامی جاری کيا تھا۔ "سياسی قتل پر پابندی" کے سيکشن 5 جی ميں واضح درج ہے کہ "امريکی حکومت کا کوئ ملازم کسی
بھی صورت ميں کسی سياسی قتل ميں اور کسی سياسی قتل کی سازش ميں شريک نہيں ہو گا۔"

سال 1976 سے ہر امريکی صدر نے صدر فورڈ کے "سياسی قتل پر پابندی" کے اس حکم نامے کو برقرار رکھا ہے۔

سال 1978 ميں صدر کارٹر نے اينٹلی جينس کے نظام کو ازسرنو تشکيل دينے کے ليے سرکاری حکم نامہ جاری کيا۔ اس حکم نامے کے سيکشن 503-2 ميں "سياسی قتل پر پابندی" کی شق کو برقرار رکھا گيا۔

سال 1981 ميں صدر ريگن نے سرکاری حکم نامہ 12333 جاری کيا جس ميں "سياسی قتل پر پابندی" کو برقرار رکھا گيا۔


http://www.fas.org/irp/crs/RS21037.pdf


شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

http://s24.postimg.org/sulh4j7f9/USDOTURDU_banner.jpg

بےباک
04-25-2015, 07:08 AM
http://ummat.net/2015/04/25/images/story10.gif

بےباک
04-26-2015, 07:51 AM
http://ummat.net/2015/04/26/images/story25.gif

بےباک
04-27-2015, 05:27 AM
http://ummat.net/2015/04/27/images/story11.gif

بےباک
04-28-2015, 06:52 AM
http://ummat.net/2015/04/28/images/story11.gif

بےباک
04-29-2015, 07:08 AM
http://ummat.net/2015/04/29/images/story10.gif